حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

فیروز ناطق خسرو کا نظمیہ کلام- دعا عظیمی

ڈاکٹر عرش منیر جو شعبہ اردو ,مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی کلکتہ میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتی ہیں فرماتی ہیں کہ ان کی نظموں کا غائر مطالعہ کرنے کے بعد صاف ظاہر ہوتا ہے کہ موصوف کا نظمیہ کلام نہ صرف اپنے عہد کا ترجمان ہے بلکہ ناگفتہ بہ حالات اور ماحولیاتی اثرات اور دباو کے تحت زندگی اور فن کے نئے تقاضوں کو پورا کرتا ہے ساتھ ہی اس میں جدید شاعری کے عمدہ نمونے بھی ملتے ہیں انکی نظموں پر مشتمل مجموعوں “آنکھ کی پتلی میں زندہ
” عکس” اور “ستارے توڑ لاتے ہیں ” اس کا عملی نمونہ ہیں
ان کا جائزہ بذات خود ایک سند کی حیثیت رکھتا ہے مگر میں ایک عام قاری کی حیثیت سے ان کی نظموں کی گرویدہ ہوں اور ہمیشہ سے ایسے ہی سوالوں کی گونج میں کھوئ رہتی ہوں کہ نظم کیا ہے ان کا کلام پڑھ کے میں جان جاتی ہوں کہ نظم حروف اور خیال اور معنی کے موتیوں کی وہ لڑی ہے جسے شاعر تسلسل کے ساتھ پروتا ہے یہ فن دلبری ہے
شاعری ہے ,میں تھوڑی دیر کے لیے سوچنا بند کر دیتی ہوں کہ ،مصوری کسے کہتے ہیں، رنگ کیونکر رقص کناں ہوتے ہیں ، ساون رت میں کیا ایسا جادو ہے کہ ساری فطرت آپس میں سرگوشیوں میں محو ہو جاتی ہے، انسان پہ نظارے اور موسم کیا اثرات مرتب کرتے ہیں ؟ کیف کیاہے؟ کھوج کیوں ہے؟ اور حاصل کیا ہے؟عام طور پہ فارغ اوقات میں
ذہن میں سوال ایسے کلبلاتے ہیں جیسے برسات میں چیونٹیوں کے پر نکل آتے ہیں اور ہر زیر زمین چیز باہر نکل آتی ہے ، ایسے میں سہیلیوں سے باتیں کرنا اور نظموں سے دل بہلانا ہی محبوب مشغلہ ہے
شاعر کے تخیل کے نگار خانے میں کیسی کیسی صورتیں بنتی ہیں اور وہ لفظوں کی سوزن سے کیسی کیسی گلکاری کرتا ہے، بقول میر انیس
ع
اک پھول کا مضمون ہو تو سو رنگ سے باندھوں
شعر جذبات کے عکاس اور غنائیت کا حسن لیے ہوں تو پڑھنے والے کے ذوق کی تسکین کا باعث بنتے ہیں۔ آپ کو ایک بہت بڑے شاعراور ان مجموعوں کے خالق جناب فیروز ناطق خسرو صاحب کہ جن کا کلام ان کے مقام کا تعین کرتا ہے ان کی نظموں سے ملواتی ہوں فطرت سے محبت کی عکاس یہ نظم پڑھیے,عنوان ہے

بارشیں خود بھی نہاتی ہیں

…….سنا ہے
گھر کے آنگن میں
,بہاریں رقص کرتی
! گنگناتی ہیں
تمہارے ساتھ مل کر
!!بارشیں خود بھی نہاتی ہیں
فیروز ناطق خسروصاحب کی بہت سی کتب میں سے میرا معصومانہ انتخاب ہے” ستارے توڑ لاتے ہیں” دراصل اگر بات ہو ان کے فنی محاسن کی تو شاید میں حق ادا نہ کر پاؤں کہ میں اس فن حرف گری سے بس سمبندھ رکھتی ہوں مگر اس کی باریکیوں تک میری نگاہ پہنچنے سے قاصر ہے اس لیے میں صرف اپنی پسندیدہ نظموں سے آپ کی ملاقات کرواوں گی۔ ۔۔۔ایک نظم کا عنوان ہے
تمہیں جو کچھ بھی کہنا ہے “,
اس کے آخری اشعار دیکھیے
محبت زندہ رہنے کا بہانہ ہے
جو پل مٹھی میں ہے اپنی
سوا اس کے کوئئ بھی پل نہیں ہوتا
ہیں جتنے لفظ اپنے پاس ان میں کل نہیں ہوتا
تمہیں جو کچھ بھی کہنا ہے
وہ مجھ سے آج کہہ دینا
چھوٹی بحر میں پروئئ ان کی نظمیں سفید راج ہنس کی طرح کھلے پانیوں میں اپنے تمام تر سچ اور حسن کو سمیٹے پورے غرور سے کھڑی ہیں میرا من چاہتا ہے میں انہیں کسی منظر کی طرح عکسبند کروں ان کو پڑھتے سمے ایسی ہی کیفیت طاری ہوئی جیسے پروین شاکر کو پڑھتے وقت قاری مبہوت ہو جاتا ہے کچھ ثانیے کے لیے۔ ایسی نازک خیالی واللہ اور کس چابکدستی سے سپرد قلم ہوتی نظر آتی ہے جیسے کوئئ ماہر گھڑ سوار سرپٹ گھوڑا بھگاتا ہوا لے جاۓ اور آپ دیکھتے رہ جایئں۔۔۔ان کی نظموں میں روانی سلاست اور بے ساختگی نظر آتی ہے۔
ردی والا
میں نے اس کی ساری نظمیں
ایک اک کر کے پڑھ ڈالی ہیں
ردی والا کب آۓگا
——

“اپنے آپ سے باہر آکر”

کلیوں سے کچھ باتیں کیں
رنگ اڑایا پھولوں کا
آنسو پونچھے شبنم کے
روپ چرایا غنچوں کا
قطرے میں دریا کو دیکھا
ذرے میں صحرا کو پایا
پتھر سے معبود تراشہ
سورج کو مسجود بنایا
آگ بجھائی دامن کی
انگاروں سے میل بڑھایا!
اپنے آپ سے باہر آکر
جب بھی اس نگری کو دیکھا
!!ہم نے اپنا آپ گنوایا

حرف کو جذبے سے فنی صناعی میں ڈھالنا جان جوکھوں کا کام ہے صحرا نوردی اور کوہ پیمائئ جیسا حوصلہ مند مگر اس کا انعام بھی تو وہی جانے جو یہ کرناچاہے یہ ذوق سے تسخیر ہونے والے ہنر ہیں۔
پانیوں میں ہلکورے بھرتے پیلے یا گلابی کنول ہوں سفید بھیگی بطخیں ہوں یا راج ہنس یا مری سے گلیات کے راستے گل بابونہ سے بنے تاج بیچتے بچے میرا دل سانس لیتی نظموں کی کھوج میں حسن کے آزاد رستوں پر سفر کرتا ہےاور گاہے کلام سے زندگی کارس کشید کرنا سیکھنا چاہتا ہے –
میری خواہش ہے کہ دنیا امن اور محبت کا گہوارہ بن جائے ایسے مواقع ہر ایک کو میسر ہوں کہ سب حسین نظمیں پڑھتے رہیں اور لکھنے والوں کو داد دیتے رہیں اور یہ کہتے رہیں کہنے والے کہ “ستارے توڑ لاتے ہیں “امید حوصلے اور انسانی نفسیات کے پرت کھولتی شاعری کے گن گاتے رہیں

فیس بک تبصرے