حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

رمضان کے فضائل ۔ اسامہ طفیل

رمضان کا مہینہ پھر سایہ فگن ہے
ہر سمت نییکو ں کی پر نور انجمن ہے

رمضان ا لمبارک کا مہینہ ایک دفعہ پھر سے آیا چاہتا ہے ۔یہ ماہ مبارک مسلمانوں کیلئے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ یہی وہ مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی آ خری کتاب قرآن مجید کو لوح محفوظ میں آسمان دنیا پر نازل فرمایا ۔چند احادیث سے ہم رمضان المبارک کی اہمیت واضح کیے دیتے ہیں:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ “”مَنْ صَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ
ترجمہ:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس نے رمضان کے روزے ایمان اور خالص نیت کے ساتھ رکھے اس کے پچھلے گناہ بخش دیئے گئے۔

اس حدیث میں حاتم انبیینﷺ نے کیا خوب کلیہ بتلا دیا کہ اگر کوئی چاہتا ہے کہ اس کے گناہ معاف کر دئیے جائیں وہ رمضان المبارک میں
روزے رکھے اور خالص نیت سے رکھے یہاں پہ خالص نیت سے مراد صرف اللہ تعالیٰ کیلئے روزے رکھے نہ کے دکھاوے کےلیے اور اس روزے سے وہ مقصد حاصل ہو جس کے لیے یہ روزے رکھے گئے۔

ان روزوں سے اللہ تعالیٰ کو کیا مقصود ہے وہ بھی رب کریم نے بتلا دیا:
يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَي الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ (سورۃ البقرۃ)
ترجمہ:
مومنو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقوی اختیار کرو۔
سورۃ بقرۃ کی اس آ یت سے واضح ہو گیا کہ روزے کا مقصد آ پ کو بھوکا پیاسا رکھنا نہیں ہے بلکہ اس سے تقوی کا حصول مقصود ہے اور جس نے یہ تقوی حاصل کر لیا وہ مندرجہ بالا حدیث کے مطابق اپن گزشتہ گناہوں کو بخشاوانے کا حق دار ہے۔ یہاں پہ تمام گزشتہ گناہوں سے مراد صغیرہ گناہ ہیں کیوں کہ کبیرہ گناہوں کی بخشش کے لیے توبہ شرط ہے۔

اعمال کے اجر میں اضافہ:
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ارشاد نبوی نقل فرماتے ہیں:
كل عمل ابن آدم يضاعف الحسنة عشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف ، قال الله عز وجل إلا الصوم فإنه لي ، وأنا أجزي به ، يدع شهوته وطعامه من أجلي
“”آدم کے بیٹے کے تمام اعمال بڑھا دئے جائیں گے۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا دی جائے گی۔ ﷲ تعالیٰ فرمائے گا روزہ چونکہ صرف میرے لئے ہی رکھا گیا ہے میں ہی اس کی جزا عطا کروں گا۔ (دنیا میں) روزہ دار نے اپنی خواہش اور کھانا میری خاطر ترک کیا تھا۔””
اس حدیث میں مسلمان روزے دار کے لیےیہ نوید ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی ایک نیکی کو دس اور پھر سات سو تک میں تبدیل کر دیتے ہیں ۔

جنت کا دروازہ:
اسی طرح ﷲ تعالیٰ نے روزہ دار کیلئے جنت میں ایک خاص دروازہ بنا دیا ہے جس کا نام (باب الریان) ہے۔
ارشاد نبویؐ ہے:
في الجنة ثمانية أبواب فيها باب يسمى الريان لا يدخله إلا الصائمون
“جنت میں آٹھ دروازے ہیں ان میں سے ایک دروازے کا نام “الریان” ہے۔ اس سے روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوگا”۔

یقین جانیں یہ کتنا بڑا عمل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کے آٹھ دروازوں میں سے ایک دروازہ صرف ان کےلیے مختص کر دیا جو ایمان کی حالت میں خالص نیت سے روزے رکھتے تھے ۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس دروازے سے داخل ہونے کا حقدار بنا دے ۔آمین!

جہنم کے دروازے بند اور جنت کے دروازے کھل گئے:

ارشاد نبویؐ ہے:
إذا دخل شهر رمضان ، فتحت أبواب السماء ، وغلقت أبواب جهنم ، وسلسلت الشياطين
” جب رمضان المبارک کا مہینہ (مومنوں پر) داخل ہوتا ہے تو آسمان کے دروازے (اور ایک روایت میں ہے کہ جنت کے دروازے) کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو جکڑ دیا جاتا ہے”
کیا بابرکت مہینہ ہے! کہ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے لیے جنت کے دروازے کھول دیتا ہے اور جو چاہے تو نبی کریمﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اعمال کر کے جنت کا حقدار بن سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فضل کا مستحق ہو سکتا ہے ۔شیاطین اور سرکش جنات کو جکڑ دیا جاتا ہے اس لیے کہ وہ مومنوں کو بہکا نہ سکیں۔

رمضان بارش کی ماند:
امام بیقہیؒ فرماتے ہیں: “رجب ہوا ہے شعبان بادل ہے اور رمضان گویا بارش ہے”
یہ بارش رب زوالجلال کی طرف سے رحمت کی بارش ہے جس سے ہر مسلمان(کوشش کرنے والا) مستفید ہوتا ہے اور تقوی اختیار کرتا ہے اور اللہ کی جنتوں کا مستحق بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس رحمت و فضل والی بارش سے مستفید فرمائے۔۔۔ آمین!
شفاعت:
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ‫:
روزہ اور قرآن ، قیامت کے دن روزہ دار کے حق میں سفارش کریں گے۔
‫(یعنی اس بندے کی جو دن میں روزے رکھے گا اور رات میں نماز میں اللہ کے سامنے کھڑے ہو کر اس کا پاک کلام قرآن مجید پڑھے گا یا سنے گا‫)

روزہ عرض کرے گا ‫:
اے میرے رب ! میں نے اس بندہ کو کھانے پینے اور نفس کی خواہش پورا کرنے سے روک رکھا تھا ، آج میری سفارش اس کے حق میں قبول فرما (اور اس کے ساتھ مغفرت و رحمت کا معاملہ فرما‫)

اور قرآن کہے گا ‫:
میں نے اس کو رات کے سونے اور آرام کرنے سے روک رکھا تھا ، آج اس کے حق میں میری سفارش قبول فرما (اور اس کے ساتھ بخشش و عنایت کا معاملہ فرما‫)

چنانچہ روزہ اور قرآن ۔۔۔ دونوں کی سفارش اس بندہ (روزہ دار) کے حق میں قبول فرمائی جائے گی۔

حوالہ ‫:
[qh]مسند احمد ، جلد دوم ، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضی الله عنه[/qh]‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬‬

اللہ تعالیٰ ہم سب کو روزہ کی شفاعت کا حقدار بنائے۔آمین!

فیس بک تبصرے

ٹیگز