حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

عید کی ایک کہانی. دعا عظیمی

“میں افطاری کے بعد گاڑی اور ڈرائیور بجھوا دوں گا
بہو کو چوڑیاں اور مہندی لگوا لانا اور اپنے لیے بھی لے آنا “اناصر شاہ نے پیسے اپنی بیگم کوتھماتے ہوۓ فرمان جاری کیا اور یاد سے یہ مٹھائی کے ڈبے ہمسایوں کو بجھوا دینا وہ آتے ہوۓ سات آدھے آدھے کلو والے مٹھائی کے ڈبے اٹھا لاۓ تھے۔ اور اب دوبارہ دکان پر جانے لگے تھے،شہر میں ان کی مخصوص مٹھائی کی دکان تھی ہر سال عیدالفطر یعنی چھوٹی عید پر وہ پچھلے کئ برسوں سےاپنے کاروبار کی خوشی میں ہمسایوں کو مٹھائئ کی سوغات بھیجنے کی روائیت انتہائی محبت سے نبھاتےچلے آرہے تھے۔۔۔”بیٹا چھوٹے کو ساتھ لے جانا اور آج مٹھائی دے آنا ہمسایوں کو۔۔”اماں نے تخت پوش پہ بیٹھ کے تسبیح گھمانی شروع کی اور فائزہ کو ہدایت جاری کی۔۔۔”اماں اس بار مٹھائی نہ بانٹتے تو کیا تھا “اس کے خوبصورت چہرے پہ ناگواری کے اثرات پھیلے۔۔۔”ہاۓ ہاۓ خیری صلا ،”۔ اماں چلائی ،”کیوں اللہ تیرے ابا اور میرے پتر کو لمبی حیاتی دے اور رزق میں برکت ڈالے منہ سے اچھی بات نکالا کر”۔۔۔فائزہ بے دلی سے خشک ہوتے پودوں کو پانی دے کر ہٹی تھی اور ابھی ٹائیں ٹائیں کرتے طوطے کو چوری بنا کر دینی تھی۔
مکان دیواریں دیواروں پہ چڑھتی بیلیں حتی’ کہ ہاشم کا خوبصورت طوطا سب ہی اداس تھے ۔مکین اداس ہوں تو مکان اداس ہو ہی جایا کرتے ہیں فائزہ کی بیٹی عائمہ اپنا نیا فراک پہن کر شیشے میں گھوم گھوم کر دیکھ رہی تھی جبکہ عیان سائکل چلانے کی مشق کر رہا تھا۔۔۔”اماں ، ابا عید پہ آئیں گے نا۔۔ ۔۔؟ عیان نے اماں کا پلو اپنی طرف کھینچتے ہوۓ پھر سوال پوچھا ،دادو سے پوچھو ،۔۔۔ وہ چڑ کے بولی دادو سفید دوپٹہ اوڑھے دونوں ہاتھ پھیلاۓ رب سے ہمکلام تھیں فائزہ نے سوچا یہ بڑی عورتیں بھی خوب ہوتی ہیں اگر ان کے پاس سے خدا کو چھین لیں تو شاید خالی ہو جائئں اپنی عاشقی کا سارا شوق رب سے جڑ کے پورا کر لیتی ہیں۔
اماں میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گا ،اسےہمسایوں کے گھر جانے کا بہت شوق ہو رہا تھا وہ اپنے دوستوں کے گھر جا کر بہت خوش ہوتا تھا۔۔۔۔اچھا ،اس نے بچے کو پیار سے چمکارامگر ساتھ ہی پریشانی سےسوچا، سات ہمسایوں کے گھر جانے کا مطلب تھا سات سو سوالوں کا جواب دینا۔۔۔
پچھلے سال وہ اور ہاشم خوشی خوشی سب کے گھر گۓ تھے بلکہ وہ تو لاہور بھی گۓ تھے ہاشم نے اسے سارا شہر گھمایا تھا سارا شہر اچھا تھا مگر جیل روڈ کے قریب سے گزرتے ہوۓ جب اس نے پوچھا ہاشم یہ کون سی عمارت ہے تو ہاشم نے اسےبتایا تھا کہ یہ اونچی اونچی دیواریں جیل کی ہیں تو گاڑی میں عجیب سی بوجھل اداسی طاری ہو گئ تھی۔۔۔۔ہاشم قیدی عید کیسے مناتے ہوں گے اس کے سوال کا جواب کون دیتا،گاڑی فراٹے بھرتی ریس کورس پارک کے قریب سے گزری اور وہ سب بھول کرفواروں کے اچھلتے پانی اور روشنیوں کے کھیل کو دیکھنے میں مگن ہوگئ۔۔۔انہوں نے بہت سی شاپنگ کی اورخوشی خوشی اپنے شہر لوٹ آۓ۔
پھر ہاشم کے من میں جانےکیا آئئ۔۔ ایک روز اس نے بتایا کہ وہ ملائشیا جا رہا ہے ویزہ لگ گیا ہے اور وہ دو تین ماہ سیر سپاٹا کر کے لوٹ آۓ گا۔۔ابا نے سمجھایا بھی کہ وہاں نہ جا بلکہ عمرہ کر آ پر وہ نہیں مانا “ابا عمرہ آپ سب کے ساتھ کروں گا پہلے ایک چکر دوستوں کے ساتھ لگا آوں ” پھر لاڈلے میاں کو چھوڑنے سب ائیر پورٹ گۓ۔۔۔۔کہنے لگا،” تو دل چھوٹا نہ کر وٹس ایپ ہے نا بات ہوتی رہے گی “پھر ایسے ہی ہوا لیکن ایک دن ہاشم کافون بند ملا اور دو تین دن بعد میسیج ملا کہ کاغذات میں کوئئ قانونی مسئلہ ہے اور وہ پولیس کی تحویل میں ہے اب مقدمہ چلے گا پھر صورتحال واضح ہو گی اور تب سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔۔۔
اس دن سے جیسے ان کی تو سانس بند ہوتے ہوتے بچی تھی۔اماں نے تخت پوش سنبھال لیا تھا اور دن رات اللہ اللہ کی رٹ لگا لی تھی البتہ ناصر شاہ نے ہمت نہیں ہاری سفارت خانے کے چکر پہ چکر اور وکیلوں سے مشورے۔۔ پےمشورہ مگر انہوں نے کہا تھا کہ یہ خبر گھر سے باہر نہ نکلے لوگوں کے ہاتھ کوی بات آنے کی دیر ہوتی ہے رائئ کا پہاڑ بنا لیتے ہیں فائزہ کو ایسے لگتاتھا جیسے پکتی ہانڈی کے منہ پہ کسی نے بھاری ڈھکن دے دیا ہو اندر ہی اندر کڑھتی، پکتی، بڑ بڑ کرتی ،مگر بھاپ باہر نہ نکلتی چند دنوں میں ہی کمھلا گئ تھی آنکھوں کے گرد ہلکے تھے جانے ہاشم کس حال میں ہوگاوہاں کی جیل کی دیواریں بھی اونچی اونچی ہوں گی ڈسٹرکٹ جیل کی اونچی اونچی دیواریں کی طرح، لگتا تھا جیسے اسے بھی کسی نے دکھ کی کوٹھڑی میں قید کر دیا ہو اوپر سے کہتے جا کہ ہمسایوں کو مٹھائ دے کے آؤں اور سب کو بتاوں کہ سب خیریت ہے،کتنے روایتی ہیں یہ لوگ، اس نے ہانڈی کی آنچ دھیمی کی اور بھاری دوری سے اس کے ڈھکنے کو مزید ڈھانپ دیا۔۔ادھر ہاشم الگ پچھتا رہا تھا ،اس نے تو ویزے کے پورے پیسے دئے تھے جانے کیسے غلطی ہوئئ پتہ نہیں کون سی شرط پوری نہ ہوی تھی اجنبی زبان اجنبی لوگ اور جیل کی زندگی پھر سننے میں آیا کہ دونوں حکومتوں نے اپنے اپنے قیدیوں کی رہائ کے لیے بات چیت کی ہے جس میں ہاشم کا نام بھی شامل تھا۔
افطار سے پہلے ابا کا فون آیا۔۔۔آواز خوشی سے کانپ رہی تھی ارے بھاگوان مبارک ہو۔۔۔بہو بیگم کو خوش خبری سنا دو ،ہوا کیا ۔؟اماں نے جلدی سے بات کاٹ کر پوچھا ،”پتر کی خبر ملی کچھ۔”۔۔ ہاں پیغام آیا ہے حکومت نے اپنے قیدیوں کے لیے جہاز بھیجا ہے کل وہ اور اس کے ساتھ تین سو بیس لوگ واپس آ رہے ہیں خبر کیا ملی آنکھوں سے تشکر کے آنسو جاری ہو گۓ ۔۔ساس بہو خوشی کے مارے ایک دوسرے سےلپٹ گئیں آخر اماں کی عرضی رب نے سن لی دونوں فرط مسرت سے رونے لگیں رو دھو کے فارغ ہوئیں سب سے پہلے پنجرے میں بند اپنےطوطے کو آزاد کیا اور نفل ادا کیے۔۔طوطا حیرت اور مسرت سے گول گول آنکھیں مٹکا کے دیکھ رہا تھا پہلے اس نے چھوٹی اڑان بھری پھر ماحول سے ہم آہنگ ہوا اور لمبی اڑان بھر کے سامنے والوں کی تیسری منزل کے چھجے پہ جا بیٹھا۔
بچوں نے خوشی کا نعرہ لگایا۔۔۔ ابا واپس آرہےہیں ہم کل لاہور جائیں گے جہاز دیکھیں گے اور ابا کو لے کر آئیں گے ۔عیان اور آئمہ خوشی سے پھولے نہیں سماۓ اوربیڈ پر چھلانگیں لگانے لگے.عیان آو تمہارے دوستوں کے گھر مٹھائ دےکر آئیں ۔۔شکر ہے ہمارا بھی کوئئ والی وارث ہے لوگ حکومت کو کتنا بولتے ہیں کبھی تو یہ بہت اچھا کام بھی کرتی ہے اس کا دل چاہتا گلے میں ڈھول ڈال کے دھمال ڈالے۔کل ہاشم گھر آجاۓ گا اس نے سوچا عید اپنوں کے ساتھ جینے اور رہنے کا نام ہے۔۔ابا نے دو ملازم لڑکے اور مٹھائی کے اورڈبے بھیج دیے۔
گھر بھر میں زندگی دوڑنے لگی آنگن میں لگا سر سبز پیڑ اور سبز ہو گیا ، بیل شاداب سی ہوگئ ،سکھ بھری زندگی کتنی ہلکی پھلکی تھی۔

فیس بک تبصرے

ٹیگز