حمد باری تعالیٰ

جہیز کی لعنت : بشری نواز

صرف سننے ،لکھنے ،اور پڑھنے کی حد تک افسوس کہ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں ما ں باپ بیٹی کی پیدائش پر پریشاں ہیں۔ کہ پہلے بیٹی۔ کی۔ اچھی۔ پرورش کی جاۓ پھر اس کی۔ اعلی تعلیم۔ کے۔لیے بھاگ دوڑ کی۔ جاتی ہے اور پھر فکر کا لمحہ یہاں۔ ہی۔ ختم۔ نہیں ہوتا کہ والدین۔ اس کی شادی کی۔ فکر مین غرق ہوئے جاتے ہیں۔ کہ رشتہ ہو بھی جاۓ تو۔ تو لڑ کے والوں۔ کی ڈیمانڈ کیسے پوری۔ کی۔ جاۓ عام لفظوں مین۔ جسے ہم۔ جہیز کہتے ہیں۔
اللہ‎ اللہ‎ کر کے جو کوئی اچھا رشتہ مل۔ جاۓ تو اور ان کا کہنا بھی ہو کہ ہمیں جہیز جیسی لعنت نہیں۔ چاہے تو دوسری طرف بیٹی والے بجاۓ کے وہ شکر ادا کریں وہ ناراضگی کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور جواب یہ ہی دیتے ہیں۔ کہ ہم نے جو دینا ہے اپنی بیٹی۔ کو۔ دینا ہے آپ۔ کو نہیں دے رہے یہ ہماری بیٹی۔ کا حق ہے آپ منع نہیں۔ کر سکتے ہم برادری کو۔ کیا مونھ دیکھا یں گے
– دوسری طرف کچھ بیٹیوں۔ کی بھی ڈیمانڈ ہو۔ جاتی۔ ہے وہ والدین۔ کو مجبور کرتی ہیں جہیز کے لیے اور بیچارے ما ں۔ باپ کو بیٹی کا مطالبہ پورا کرنا ہی پڑتا ہے چاہے اس کے کیے ان کو کسی کے اگے ہاتھ ہی۔ کیوں نا پھیلانا پڑے لڑکیوں کا مطالبہ یہ بھی ہوتا ہے مہنگا لہنگا ہونا چاہے مشہور پارلر سے تیار ہونا ہے والدین کو بھی اپنی۔ عزت کا خیال آ جاتا ہے بڑے ہوٹل مین با رات بلا ی جاتی ہے سب کر کرا کے بات وہاں ہی آ جاتی ہے ہمارا معاشرہ شاید کبی نا بدلے کیوں کہ ہم یہ بدل نہیں سکتے ہم یہ بدلنا ہی نہیں چاہتے جہیز کسی نا کسی شکل مین ہمارے معاشرے کا حصہ ہے اور رہے گا بھی جو نہیں دے سکتے وہ بھی۔ دینا چاہتے ہیں جو۔ نہیں لینا چاہتے وہ بھی بہو کا آیا جہیز رکھ لیتے ہیں۔ اور دیکھنے مین آیا ہے کے جہیز نا لینے والے بھی طعنے دے دیتے ہیں۔ اسی لعنت کی وجہ سے شادیاں۔ لیٹ ہو رہی ہیں۔ اس طرح کے اخراجات سے بچ کے شادیاں آسان کی جا سکتی ہیں۔ لیکن ہم ان دیکھی زنجیروں کے قیدی ہیں چاہتے ہوئے بھی ہم خود کو ان جھوٹے رسم و رواج سے آزا د کرنا ہی نہیں چاہتے چھوٹے شہروں مین آ ے دن۔ بہُوو ں کو مارا پیٹا جاتا ہے صرف اسی ایک لعنت کی۔ وجہ سے
– لب لباب بس اتنا ہی کہ
– جہیز ایک۔ لعنت ہے لکھنے ،پڑھنے،اور سننے کی۔ حد تک

فیس بک تبصرے