حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

تم نے کچھ لکھا طیبہ؟ : طیبہ ژویک

یہ وہ جملہ ہے جو میں کئ مہینوں سے سُن رہی ہوں، اور میں جو ہر بار بہت سلیقے سے گھڑ کر اس کا جواب دیتی ہوں آج سچ بتانے کی جرأت کر رہی ہوں کہ میں نے اس پر بارہا سوچا ہے اور گھنٹوں تک بلاتکان سوچا ہے پر کچھ لِکھ نہیں پائی، لکھ پاتی ہی نہیں کیونکہ میں یا میرے الفاظ ان احساسات کو بیان نہیں کر سکتے جو ایک ماں کے دُکھ کو بانٹ سکیں۔۔
کہانی بڑی عام سی ہے۔۔

ابتدائے کائنات سے ہی یہ دستور چلا آیا ہے کہ عورت اور مرد مل کر ایک نئے رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں اور اسی بنیاد سے خاندان کی عمارت تشکیل پاتی ہے ۔۔ اس عمارت میں ہر طرح کا رشتہ ہوتا ہے۔۔ پر میرا ابھی کا موضوع صرف بیٹی ہے ہے ۔ ۔
بیٹی جس کے احترام اور اُس سے محبت کی بیش بہا مثالیں جہاں تاریخ کا حصہ ہیں تو اس کی ناقدری اور کم مائیگی بھی زمانۂ جاہلیت سے لے کر آج کے جدید دور تک جابجا دیکھنے کو ملتی ہے۔ قران پاک کی سورۂ النحل (16) میں اس رویے کو یوں بیان کیا گیا ہے: ”حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بشارت دی جائے کہ تمہارے ہاں بیٹی ہوئی تو غم اور پریشانی کے مارے اس کا چہرہ سیاہ ہو جاتا ہے اور وہ زہر کے گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔ اس بری خبر پر اپنے قوم قبیلے سے منہ چھپائے پھرتا اور اس فکر میں ہوتا ہے کہ ذلت اٹھا کر اسے زندہ رہنے دے یا تہہ خاک چھپا دے۔ یہ لوگ کیسا برا فیصلہ کرتے ہیں۔ (آیت 58، 59)“ اور سورہ شورٰی (42) میں ارشاد فرمایا ہے:”آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالی ہی کے لیے ہے۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے یا پھر لڑکے اور لڑکیاں ملا جلا کر دیتا ہے، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے۔ وہ بڑے علم والا اور کامل قدرت والا ہے۔(آیت 49 ،50)“
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
تپتی زمیں پر آنسوؤں کے پیار کی صورت ہوتی ہیں
چاہتوں کی صورت ہوتی ہیں
دل کے زخم مٹانے کو
آنگن میں اتری بوندوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں پھولوں کی طرح ہوتی ہیں
نامہرباں دھوپ میں سایہ دیتی
نرم ہتھیلیوں کی طرح ہوتی ہیں
بیٹیاں تتلیوں کی طرح ہوتی ہیں
چڑیوں کی طرح ہوتی ہیں
تنہا اداس سفر میں رنگ بھرتی
رداؤں جیسی ہوتی ہیں
بیٹیاں چھاؤں جیسی ہوتی ہیں
متعدد احادیث ِمبارکہ میں بیٹیوں کی پرورش اور تربیت پر جنت کی بشارت اور نبی کریمﷺ کے ساتھ کی بشارت دی گئی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں، سب مانتے ہیں، پر ۔۔۔ عورت کی محبت، رحم وفاداری اور ہر قسم کے حالات میں اپنے آپ کو ڈھال لینے جیسی خوبیوں کے کے باوجود بیٹی کی پیدائش ایک ان جانا سا دُکھ بن کر اُترتی ہے۔۔ ۔ یہ معاشرے اور قریبی لوگوں کا ان کہا رویہ ہوتا ہے جسے محسوس کرتے ہوئے ایک بعض اوقات سمجھدار انسان بھی کہیں اندر غیرمحفوظ سا ہو جاتا ہے ۔۔

بیٹی کی پیدائش پر ملنے والی دعائیں بھی اپنی معنویت میں اسی رویے کا ڈھکا چھپا اظہار ہوتی ہیں جیسے دل سے کسی کی دی ہوئی پرخلوص دعا ”اللہ نصیب اچھے کرے“ میں بھی کانٹے جیسی چبھن لگتی ہے۔ باپ کو نہ چاہتے ہوئے بھی نصیب کی فکر کیوں لگ جاتی ہے ۔وہ بیٹی کی نسبت بیٹا ہی کیوں چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ پتہ ہے ایسا کیوں ہے؟
جذباتی ہو کر سوچیں تو یہ سب غیر دانشمندانہ سوچ اور روایتی جاہلانہ طرز عمل کا عکاس ہے۔ حقیقت مگر اپنی جگہ ہے ہمیں اس کے سامنے سر جھکانا پڑتا ہے۔ بیٹی کا روپ عورت کا سب سے کمزور ترین پہلو ہے۔ چاہے وہ سونے کا چمچہ لے کربادشاہ کے گھر میں بھی پیدا ہو جائے، دُنیا میں”بےنظیر“ بھی ہو، وقت کے مضبوط ترین قلعے میں محفوظ ہو کر جگ پر حکومت بھی کرنے لگے، لیکن! وہ ایک عام مرد کے سامنے بےبس ہے۔ مرد کی افضلیت کا حق اس سے کوئی نہیں چھین سکتا۔ عورت دُنیا فتح کر کے بھی ایک مرد سے ہار جاتی ہے۔ تعلیم و تربیت کے میدانوں میں دُنیا کے افق پر جھنڈے گاڑنے والی لڑکی اپنے بابا کی جان اور اماں کی رانی کو اپنا گھر اپنی جنت چھوڑنی ہی پڑتی ہے ۔

پھول جب شاخ سے کٹتا ہے بکھر جاتا ہے
پتّیاں سوکھتی ہیں ٹوٹ کے اُڑ جاتی ہیں
بیٹیاں پھول ہیں
ماں باپ کی شاخوں پہ جنم لیتی ہیں
ماں کی آنکھوں کی چمک بنتی ہیں
باپ کے دل کا سکوں ہوتی ہیں
گھر کو جنت بنا دیتی ہیں
ہر قدم پیار بچھا دیتی ہیں
جب بچھڑنے کی گھڑی آتی ہے
غم کے رنگوں میں خوشی آتی ہے
ایک گھر میں تو اُترتی ہے اداسی لیک
دوسرے گھر کے سنورنے کا یقیں ہوتا ہے
بیٹیاں پھول ہیں
ایک شاخ سے کٹتی ہیں مگر
سوکھتی ہیں نہ کبھی ٹوٹتی ہیں
ایک نئی شاخ پہ کچھ اور نئے پھول کھِلا دیتی ہیں

دوسرا گھر چاہے لاکھ جانا پہچانا، امیر یا سیانوں والا ہو اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ سدا سُکھی ہی رہے گی۔۔
کیونکہ بمطابق ہماری دُنیا کے چاہے وہ کسی مہذب اور اعلیٰ ”اخلاقی“ معیار کے حامل معاشرے میں سانس لے رہی ہو۔ اُسے کسی مرد کا سہارا درکار ہے چاہے وہ دُنیا کا سب سے نالائق آدمی کیوں نہ ہو۔
یہی وہ ایک نقطہ ہے جہاں آکر ہر ماں باپ کی سانسیں تھم جاتی ہیں ۔۔ ۔

یہیں پر ہمارے بزرگوں کے اقوال سچے محسوس ہوتے ہیں کہ بیٹوں سے ہمیشہ سکھ ملتے ہیں اور دکھ دینا، دکھ پانا لڑکیوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے درحقیقت ان اقوال کا مطلب یہ ہر گز نہیں ہوتا کہ لڑکیاں کم تر اور لڑکے ارفع و اعلیٰ ہوتے ہیں ۔۔ بلکہ وہ اس درد کو سہہ نہیں پاتے جب ان کے سامنے ان کی بیٹی کسی مشکل میں ہو اور وہ صرف دیکھ کے علاوہ کچھ کر نہ سکیں۔ ،
ایک بیٹی جِسے انہوں نے پھولوں سے بڑھ کر عزیز رکھا ہو، جسے کانٹا چبھنے کی تکلیف پر بھی اس کی تکلیف دل پر محسوس ہو۔۔
اور اپنے دل کی رونق کو کسی دوسرے کو ہاتھوں سونپ دینے کا حوصلہ وہ والدین کیسے کرتے اور سہتے ہیں ۔۔ یہ میں شاید کبھی بھی الفاظ میں بیان نہ کر پاؤں ۔۔ اور یہ بات کوئی مرد تب تک نہ جان پائے جب تک وہ خود بیٹی کا باپ نہ ہو ۔۔ کبھی کبھار میں سوچتی ہوں شاید اس باپ نے کسی بیٹی کا دکھ دیکھا ہو گا جو اپنی بچی اپنے ہاتھوں دفن کرنا آسان لگا ہو گا اسے۔ ۔ ۔
ہزار چھان پھٹک اور احتیاط کے باوجود بیٹی کی شادی “قسمت کا تُکا ” ہی ہوتی ہے۔۔والدین لاکھ اچھا چاہیں مگر وہ اس سوال کا جواب نہیں دے سکتے
بیٹیوں کے مقدر کے گھومتا پہیہ کیوں ہوتے ہیں
کہ نجانے کس لمحے کون سا موڑ سامنے لےآئے
جو اچھا نصیب مل جائے تو گویا والدین کی دُنیا ہی جنت ہے اور اگر ہیرے کی جگہ کوئلہ نکلے تو بیٹی کے بیوی بننے تک کے سفر میں ساتھ ہی والدین کی جان سولی پر ہی ٹنگی رہتی ہے ۔۔ خیر ان سب کے باوجود یہ پرانی با یہ بھی مان لیتے ہیں کہ رِیت یہی ہے ۔۔ سب ٹھیک ہے اونچ نیچ زمانے میں چلتی رہتی ہے ۔۔ لڑائی جھگڑے کہاں نہیں ہوتے ۔ یہ دُنیا کے امتحانات ہیں اور اللہ جن پر یہ بوجھ ڈالتا ہے اُنہیں سہارنے کا حوصلہ بھی عطا کر دیتا ہے ۔ ۔پر ۔ ۔ اس بیٹی کا دُکھ کون بانٹے جب اسے گھر سے نصیحت ملی ہو کہ جس گھر میں ڈولی گئی ہے وہیں سے جنازہ بھی اُٹھنا چاہے اور اگلے گھر کے حالات یہ ہوں کہ وہ ہاتھ ہی فکر نہ کریں جن میں امانت دی گئی ہو ۔ ۔اور وہ لڑکی کیوں زندگی کے سفر میں ایک شریک کا بوجھ اٹھائے رکھے جسے دُکھ بانٹنے کے لیے اس شریکِ سفر کا کاندھا ہی میسر نہ ہو؟؟
اگر عورت سے کسی بھی قسم کی شکایت ہو تو مرد کو حق ہے شادی کرلے ۔ سرعام نہ بھی سہی چھپ کر بھی کر سکتا ہے اور کر لیتا ہے ۔۔ ۔ پر اگر مرد ٹھیک نہ ہو تو ۔ ۔ ۔ ۔ ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

۔ اس پر نجانے کتنے لوگ لکھ چکے ہیں اور آئندہ کتنے لکھتے رہیں گے۔۔ کتنے ہی الفاظ ہیں۔ ۔کتنی ہی تجاویز اور نصیحتیں ہیں ۔۔ ۔ پر اس کا کیا کبھی کوئی حل بھی نکال پائے گا؟؟

فیس بک تبصرے