حمد باری تعالیٰ

ڈیپریشن کیوں ہوتا ہے؟ – ہمایوں ایم تارڑ

پوچھا گیا ہے، ڈیپریشن کیوں ہوتا ہے؟ اِس سے بچاؤ کی کیا سبیل کی جائے؟
عرض کیا ہے کہ ڈیپریشن یعنی ذہنی دباؤ کا کوئی علاج نہیں۔ بہتر ہےآپ آپ گھٹ گھٹ کر، کُڑھ کُڑھ کر مر جاؤ۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ زندگی ایک بوجھ ہے۔ ضروری نہیں اِسے جیا ہی جائے۔ ہم نے ٹھیکا لے رکھا ہے اِسے جینے کا؟! اِس بوجھ کو اتار پھینکو۔ مر جاؤ! سارے مسائل، ساری صعوبتیں از خود رفع ہو جائیں گی۔ یقین جانو، آپ ہلکے پھلکے ہو جاؤ گے۔ سارے مسائل، سارا دُکھ، سارا کرب جینے میں ہے۔یہاں آنے کی ضرورت ہی کیا تھی آخر؟ اور لوگ کم تھے یہاں؟ ایک آپ کا آنا ایسا ضروری تھا کیا؟ 🙂

کیا کہا، اِس کے علاوہ کوئی حل بتائیں؟ تا کہ سانس کی ڈوری بھی بحال رہے، اُدھر ڈیپریشن کا سامنا بھی نہ ہو؟ ــــ تو پھر تیار ہو جاؤ۔ اس کی کوئی قیمت ہے جو آپ کو ادا کرنا ہو گی۔ بِنا قیمت ادا کئے، یعنی مفت میں یہاں کچھ ہاتھ نہیں آنے کا۔ ہر مال بِکے ہے کچھ آنے۔

وہ قیمت کیا ہے؟
قیمت جاننے سے پہلے یہ جاننا ہو گا کہ ڈیپریشن نام کی بلا آتی کہاں سے ہے، اور کیوں آتی ہے؟ اِس کا جائے پیدائش کہاں ہے؟ اِس کے ماں باپ کون ہیں؟

دنیائے طب یعنی میڈیکل فیلڈ نے بتایا ہے کہ آپ کے دماغ میں چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں لگی ہیں۔ یہ نیورو ٹرانسمٹرز بنا بنا خارج کرتی رہتی ہیں۔ نیوروٹرانسمٹرز کیا ہیں؟ ایسے کیمیائی مادّے جو اِس طرف کی فیکٹری سے نکل کردوسری طرف والی فیکٹری سے آئے دوسرے کیمیائی مادّوں سے میل ملاپ، گفت و شنید کیا کرتے ہیں ۔ اِس عمل سے آپ ذہنی صحت میں رہتے ہو۔ اب ایک طرف کی فیکٹری جب ذرا سُست یا بیمار ہو کر یہ مادّے کم تعداد میں پیدا کرے تو imbalance یعنی عدمِ توازن برپا ہو گیا۔ ڈپریشن شروع ہو گیا۔

ایسا کیوں ہوتا ہے؟ ایک طرف والی فیکٹری کب، کیوں، کیسے بیمار یا سُست پڑ جاتی، کمزور ہو جاتی ہے؟ بظاہر اِس کی وجوہ ایک ہزار، یا ایک لاکھ ہو سکتی ہیں۔ تاہم، بغور دیکھا جائے تو وجوہات کے پورے پورے گچھے ایک ہی طرح کی کیفیت سے پھوٹتے، اور پھر مہیب بادل سے بن جاتے ہیں۔ جیسے زندگی میں کسی شے سے محرومی، یا کسی خواہش کا پورا نہ ہونا۔ اِس کا سادہ سا حل یہی ہے، جو خوشی، جو سہولت، نعمت آپ کو میسّر نہ آئی ہو، آپ وہ دوسروں کو مہیّا کرنے میں لگ جاؤ۔ جیسے ایک خاتون جس کی شادی نہ ہو سکی ہو، تو وہ نوجوان بچّیوں کی شادی کرانے میں کسی طورمعاونت کرنے میں جُت جائے۔ بھلے اب اُس کی اپنی شادی کا وقت گذر چکا، اُسے بے پناہ خوشی اور سکون میسّر آجائے گا۔ کچھ اسقدر کہ شادی شدہ خواتین کو بھی ایسی طمانیت کا احساس حاصل نہ ہوگا۔ بلکہ شادی تو اکثرہے ہی ایک پورے کا پورا مسائلستان!

بہت سے طریقے ہیں، بے سکونی کو سکون سے بدلنے اور کم نیوروٹرانسمٹرز بنانے والی فیکٹری کو کِک لگانے کے۔

آپ بیٹھے بیٹھے سو پچّاس روپے صدقہ کرنے کی نیت کر لو۔ لفظ صدقہ برا لگے تو “مدد” سے کام چلا لو۔ بوجھ کم ہو جائے گا۔ عہدے کی تمنّا ڈپریشن ہے۔ خود کو چھوٹا بنا لو۔ اٹّھو اور فرش پر پوچا لگاؤ، ڈپریشن جاتا رہے گا۔ خود کو بڑا، صاحبِ عزّو جاہ خیال کرنا ترک کر دو۔ یہ نری بیماری ہے۔ بوجھ ہے، دباؤ ہے۔ اِس سے جان چھڑاؤ۔ اپنی ذات کے حصار سے نکلو۔ گردوپیش پر نگاہ ڈالو۔ بے شمار دنیا پینے کے صاف پانی تک کو ترستی ہے۔ آپ ایسے کسی گھرانے میں دو بوتل، دو بالٹی صاف پانی کی بہم پہنچا دو، سکون مِل جائے گا۔ کسی سے وعدہ وفا نہ کر سکنے میں ڈپریشن ہے، معافی مانگ لو۔ وہ شخص پاس نہیں، نیت کر لو۔

آنکھ کھلتے ہی ہم دوسروں پر بوجھ بن جاتے ہیں۔ کوئی ہمیں چائے پلائے۔ یہ لا کر دے، وہ لا کر دے۔ نرا ڈپریشن ہے۔ بیدار ہوتے ہی خود کو دوسروں کی خدمت میں لگا دو۔ دوسرے آپ کو سَرو کریں، اِس نفسیات سے باہر آؤ۔ آپ دوسروں کو سَرو کرنے کے لئے ہو، ا،س ایپروچ میں ڈپریشن سے نجات رکھی ہے۔

مظاہرِ فطرت میں ڈپریشن کی ٹریٹمنٹ ہے۔ یہ زخم کا مرہم ہے۔ اِس کی healing power مشہور ہے۔ اِس سے رابطہ کر کے دیکھ لو۔ پہاڑ سے قریب ہو جاؤ۔ سمندر کا نظّارہ کرنے نکل جاؤ۔ کوئی صحرا پاس ہے، اُسے جا کر ٹکر ٹکر دیکھو۔ ڈپریشن گھٹن ہے، فطرت کی بے پناہی، اس کی وسعت ،اس کا بڑا پن آپ کے دل و دماغ میں وسعتیں بھر دے گا۔ ڈپریشن جاتا رہے گا۔

ڈپریشن خوف ہے، کسی شے کے چھن جانے کا خوف۔ گویا وابستگی آ گئی۔ قیمتی اشیا کا پاس ہونا جرم نہیں، اُن سے وابستگی اور پیوستگی نرا عذاب ہے۔ پھر سُن لو، قیمتی شے یا سہولت کی دستیابی نعمت ہے، جبکہ اُس پر ملکیت کا احساس نری زحمت، ایک عذاب۔ آپ اسے شیئر کرنے لگ جاؤ۔ ابھی نہیں کر سکتے، محض نیت کر لو۔ خود کو، اپنی اشیا کو، اپنے پیسے کو، اپنے گھر، اپنے اختیار اور مال و متاع کو دوسروں کے لئے سمجھو۔ آپ یہاں اپنے لئے نہیں، دوسروں کے لئے ہو، اِس احساس سے جیو، دن گذارو۔ دوسروں کا سکون بنو، نہ کہ اُن کی طرف سے اپنے حق میں سکون چاہو۔ ڈپریشن جاتا رہے گا۔

زندگی جھولی میں آ گری ہے، اِس میں آپ کا کوئی کمال نہیں۔ آپ اسے بانٹنے میں لگ جاؤ، سکون ہی سکون ہے۔ لازمی نتیجہ سکون ہے! لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ کو میسr زندگی ایک پیالہ ہے تو پوری ندّی بن جائے گی۔ یہ ندّی ہے تو دریا بن جائے گی۔ یہ دریا ہے، کھنچ کرسمندر جتنی ہو جائے گی۔ دینا ہی بڑھنا ہے، نہ کہ مٹھی میں بند رکھنا، سنبھال سنبھال رکھنا۔

آپ مال نہیں دے سکتے، آپ خیال دے دو۔ دو لفظ تسلّی کے، دو لفظ حوصلے اور اُمّید کے بول دو۔ کسی کا دل اچھا ہو جائے۔ کسی ڈپریشن زدہ کا ڈپریشن دور کرنے میں ڈپریشن جاتا رہے گا۔ گویا آپ ڈپریشن کے معالج بن گئے۔ بدترین صورتحال میں بھی خود سے مخاطب ہو کر کہہ دو “سب اچھا ہو جائے گا۔ یہ وقت بھی گذر ہی جائے گا”۔ کائنات کی مثبت توانائیاں، بڑی بڑی آنکھوں والی حسین پریاں آپ کو تکنے لگ جائیں گی۔

اپنی کوئی بری عادت سنوار لینے میں بھی ڈپریشن سے نجات ہے۔ بس دیکھ لو کیا بُرا ہے آپ میں؟ دوسروں سے پیسے مانگنے کی عادت؟ فضول خرچی سے باز آجاؤ، اوr تھوڑا خود دار ہو جاؤ۔ کائنات میں دما دم سرگرم، مشفق و مہربان توانائیاں آپ پر فریفتہ ہو جائیں گی۔ آپ کی ضرورت کسی طور پوری کر دی جائے گی، یا وہ ضرورت، وہ احتیاج باقی ہی نہ رہے گی۔ آپ عجلت پسند ہو؟ اور چاہی گئی شے کے تعاقب میں ایگریسو ہو جاتے ہو؟ ـــ تو let go of کی پالیسی پر آ جاؤ۔ معاملات کو ذرا ہلکا لو۔ آپ صاحبِ اختیار ہو؟ دوسروں کو گنجائش دینا سیکھو۔ اُن پر برسنا چھوڑ دو۔ جان رکھو کہ ہر کام کا ایک وقت ہے جب اسے پورا ہونا، حدّ تکمیل سے اسے وصال کرنا ہے۔ اُس پل سے پہلے جی جلانے، اور دوسروں کا جی دُکھانے میں فائدہ؟

ڈپریشن آگ ہے، اِسے اِسمِ ربّانی ” یا سلامُ ” کی تسبیح پڑھ کر ٹھنڈا کرو۔ یہ لفظ نری سلامتی ہے۔ تین چار سو مرتبہ ربّ کو اس نام سے بہ خلوص پکار کر دیکھو کیا ہوتا ہے۔ باوضو ہو کر گھنٹہ بھر تلاوتِ کلام پاک باترجمہ کرلینے میں ڈپریشن سے نجات ہے ـــــ آزما دیکھو۔ اِس میں دلوں کا زنگ اترنے، بوجھ ہلکا ہونے کی ضمانت ہے۔ یہ ہمارا ایمان نہیں، ہمارا تجربہ ہے، اس میں ڈپریشن سے نجات ہے۔

ڈپریشن سُستی میں بھی ہے۔ رگوں میں پڑا اُونگھتا، لمبی تان کر سویا لہو بعض جگہوں پر اکٹھا ہو ہو کلاٹس کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ رکاوٹ آ جاتی ہے۔ جس تعداد میں آپ کے دماغ میں نیورو ٹرانسمٹرز جنریٹ ہونے چاہئیں، نہیں ہو رہے۔ اُن کی مقدارِ پروڈکشن بڑھانے، اور خون کو باریک ترین شریانوں تک پہنچانے کا اہتمام کرو۔ لمبی واک پر نکل جاؤ۔ ڈپریشن یوں جھڑ جائے گا جیسے کسی خزاں رسیدہ درخت پر سے پتے گرا کرتے ہیں۔

آپ پر سلامتی ہو۔ نیا سال مبارک

فیس بک تبصرے