حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

دینی مدارس اور وزارتِ تعلیم-مبارک انجم

ڈی جی آئی ایس پی آر صاحب کی جانب سے کہی گئی بات” ہم مدارس کو محکمہ تعلیم کے ماتحت کر رہے ہیں ” جب سے سامنے آئی ہے، عوامی حلقوں میں متضاد قسم کی چہ مگوئیاں جاری ہیں، ایک طرف کچھ لوگ اسے درست فیصلہ مان رہے ہیں، سپیشلی وہ طبقات جو کسی حد تک لبرل ازم اور سیکولرازم کے حامی ہیں، انکو تو اس بیان پر کافی خوشی ہے، کیونکہ انکی نظر میں بھی مدارس پاکستان میں اسلامی شدت پسندی کے فروغ کے ذمہ دار ہیں، جبکہ اسلام پسند طبقات میں، اس اعلان کو انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ اور.امریکہ کا، اسلام کے مراکز کو کنٹرول میں لے کر بند کرنے کا منصوبہ کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، اور ان میں سے کچھ طبقات اس کی.شدید مخالفت بھی کر رہے ہیں،، ان دونوں مکاتب فکر کے علاوہ کچھ افکار، تھوڑے الگ بھی ہیں، جو اس.سارے معاملہ کو اسکے مثبت اور منفی پہلو کا موازنہ کرکے ہی اسکی حمائیت یا اختلاف کرنا چاہتے ہیں، میں بھی اس ہی طبقہ سے ہوں، اور اسی لیے میں آج آپ سب کے ساتھ مل کر، ان وجوہات اور حالات کا جائزہ لینا چاہتا ہوں، جنکی وجہ سے مدارس کو وازر تعلیم کو سونپا جا سکتا ہے..
ہم اس بات کو تو یکسر ہی ایک سائڈ پر رکھ دیتے ہیں، کہ، ڈی جی آئی ایس پی آر، کو آئین اور قانون یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ مدارس یا کسی انتظامی نوعیت کے کسی معاملہ پر بات کریں،،اور اپنی حد میں رہ کر صرف اپنی ذمہ داریوں کی کارکرگی دکھانے پر توجہ دیں،، اور اس بات کو سائڈ پر اس لیے رکھنا پڑے گا کہ وطن عزیز میں. سیاسی قوتوں کی مفاد پرستی اور نا اہلی سے بھی ہم سب ہی واقف ہیں،،
اس لیے اب پوائنٹ پر ہی آتے ہیں .. سب س پہلے یہ دیکھنا ہے کہ، وزارت تعلیم، کیا اس کہ اہل ہے، اس ہر مزید بوجھ ڈال دیا جائے؟ دنیا بھر میں اداروں کو جب کسی دوسرے ادارہ میں ضم کیا جاتا ہے، یا ماتحتی میں دیا جاتا ھے تو ،یہ ضروری ہوتا ہے کہ، جو ادارہ ضم کیا جا رہا ہو یا ماتحتی میں دیا جا رہا ہو، اسکی کارکردگی خراب ہو یا دیگر اس ایسی وجوہات ھوں جنکی بنا پر اس کا آزادانہ طور پر قائم رہنا ناممکن ہو،، اور اسے ایسے ادارہ کے ماتحت کیا جاتا ہے، جسکی کارکردگی بہت شاندار رہی ہو، اور وسائل بھی اتنے مضبوط ہوں کہ اس بگڑے ہوے ادارہ کو بحال کر سکیں، اس بات کی پوزیشن کو سمجھ لینے کے بعد اگر اہم اپنی وزارت تعلیم کو دیکھیں توسرکاری سکولوں کی حالت زار، ہر ہر جگہ شدید ترین بد انتظامیاں، بے قاعدگیاں،بوگس کھاتے، اور ایسے ہی بہت سارے بگاڑ، محکمہ تعلیم کی کارکردگی اور اہلیت کے کھلے مظہر اور ترجمان ہیں، اور اگر اہم اسکو نجی شعبہ کے سکولز کے تناظر میں دیکھیں تو بھی، سکول بنانے کے کم ازکم قانونی میعار، سے بھی بہت کم
میعار کے سینکڑوں سکول ہر علاقہ میں بنے ہوے ہیں، جنکو وزارت تعلیم نے محض تعلق یا نذرانہ کی وجہ سے منظوری دے رکھی ہے، غیر رجسٹرد شدہ سکولوں کی بھی بھرمار ہے، جنکو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے، اگر نصاب کو دیکھیں تو دنیا بھر میں صرف پاکستان ہی کی وازارت تعلیم کا کمال ہے کہ ملک میں دو ہزار کے قریب میٹرک تک کے نصاب رائج ہیں، اور وزارت تعلیم کو علم تک بھی نہیں کہ کون کیا پڑھا رھا ہے، ایسے میں وزارت تعلیم، جو اپنی پہلے موجود ذمہ داریوں کو محض بیس فیصد تک بھی پورا نہیں کر پارہی، ایسے میں اس پر مزید ذمہ داریوں کا بوجھ ڈال دینا کسی بھی طرح سے عقلمندی نہیں ہوگی،
لیکن دوسری طرف،مدارس کو بھی تو بے مہار نہیں چھوڑا جاسکتا اور ایسا ہے بھی نہیں، مدارس کی بھی باقاعدہ رجسٹریشن ہونا پہلے ہی سے لازم ہے،اور ہوتی بھی ہے، اور پاکستان میں مدارس کی رجسٹریشن پرویز مشرف کے دور سے، کوئی تعلیم سے متعلقہ ادارہ نہیں بلکہ پولیس چیک کرتی ہے، اور اس وجہ سے غیر رجسٹرڈ مدارس ملک میں نہ ہونے کے برابر ہیں،
مدارس کو محکمہ تعلیم ک ماتحت کرنے کی ایک دوسری دلیل یہ بھی دی جاتی ھے کہ اس سے مدارس کے اساتذہ کی بحالی اور خوشحالی ہوگی اور صرف مہتم صاحبان کے خوش حالی اور اساتذہ صاحبان کی بدحالی کا خاتمہ ہوگا،، تو اس کا جواب یہ ہے کہ.کیا پرائویٹ سکولوں میں ایسا ھو چکا ہے کیا؟؟ پرائویٹ سکولوں میں مدارس کی نسبت کہیں زیادہ اساتذہ کا استحصال ہورہا ہے اور سالہاسال سے مسلسل ہو رہا ہے، پرائویٹ سکول مالکان لاکھ پتی سے کروڑ پتی ہو چکے ہیں اور اساتذہ کی تنخواہ آج بھی چند ہزار سے زیادہ نہیں، نہ ہی کوئی دیگر سوشل سیکورٹی یا ایمپلائیزحقوق میسر ہیں،، تو پھر کیسے ممکن ہے کہ مدارس میں وہ سب ہوسکے گا جسکے دعوے کیے جا رہے ہیں؟
اسی طرح دیگر تعلیمی مراتب، امتحان، نتیجے، اور دیگر متعلقہ امور کا جائزہ لیا جائے،، پاکستان میں مدارس کے امتحان، پیپرز، نتیجوں وغیرہ میں جس قدر ڈسپلن اور شفافیت ہے، اتنی شاندار شفافیت اور باقاعدگی، تو آرمی پیبلک سکولز کے نظام میں بھی نہیں ہے، وفاق المدارس، رابطۃ المدارس، جیسے بورڈ، اتنی شفافیت اور دیانت داری سے کام کرتے ہیں کہ نہ کوئی سفارش کام دیتی ہے،نہ رشوت، نہ جعلی ڈگریاں بنتی ہیں، نہ ہی ملی بھگت سے پاس کیا جاتا ھے، نہ.پیپر لیک ہوتے ہیں ایسے سارے معاملات کو دیکھ کر تو اصولاً یہ تقاضا بنتا ہے کہ..وزارت تعلیم کو اپنا امتحانی نظام، وفاق المدارس کی ماتحتی میں دے دینا چاہیے تا کہ امتحانی بے قاعدگیاں اور طلبا کا استحصال ختم ہو سکے،،
اس کے علاوہ، ایک اعتراض مدارس پر یہ بھی ہے کہ.وہاں ہر مکتبہ فکر کے مدرسہ میں صرف اپنے ہی مکتبہ فکر کو پڑہایا جاتا ہے، اس سے فرقہ واریت بڑھتی ہے،، تو یہ بات کچھ یوں ہے کہ تما مدارس میں،مرتب نصاب، اور تدریسی کتب، تقریباً یکساں ہی ہیں، کہیں کچھ ایک دو کتب کا فرق ہے، مگر وہ بھی محض لغت کی کتابیں ادب کی حدتک .. واقفان حال جانتے ہیں کہ مدارس میں کوئی بھی فرقہ وارانہ نصاب نہیں پڑہایا جاتا،، فقہی اختلافات، کی حیثیت علمی ہی ہوتی ہے، بالکل ویسے ہی جیسے جدید سائنس، فزکس کمیسٹری میں کسی ایک چیز پر مخلتف سائنسدان مختلف نظریہ رکھتے ہیں،، یہ علمی اختلاف ہمیشہ سے رہے بھی ہیں اور ان سے کبھی بھی الجھن نہیں پیداہوتی،،، فرقہ واریت جب بھی پھیلائی گئی ہے، بیرونی ذریعہ ہی سے پھیلائی گئی ھے، اور پھیلانے والے جانتے ہیں کہ مدارس کے طلبا. چونکہ دین کے معاملہ میں کچھ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں تو ایسے میں انکو ابہارنا نسبتاًآسان ہوتا ہے بنسبت دیگر لوگوں کے،،، اور یہ بات بھی طے شدہ ھے کہ..یہ فرقہ واریت کا ایشو گزشتہ ڈیڑھ دھائی سے تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اہل مدارس بھی اچھے سے جان اور سمجھ چکے ہیں کہ انکو تفرقہ بازی میں الجھا کر کون کون اپنے مذموم مقاصد پورے کرتا رھا ہے اور اس کے انہیں کیا نقصانات ہوے ہیں، موجودہ صورت حال میں ہر قابل ذکر مدرسہ، اتحاد بین المسلمین ہی کا داعی ہے، اور شائد یہ بھی ایک وجہ ہے انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ کے مدارس کے خلاف ہونے کی،، یوں یہ اعتراض بھی دم توڑ دیتا ھے کہ مدارس سے فرقہ واریت پھیلتی ہے..
اس کے بعد رہ جاتا ہے وہ خود کو لبرل کہلوانے طبقہ کا اعتراض کہ..ملک کی تباہ حال معیشت میں قوم کو مدارس کا بوجھ بھی اٹھانا پڑتا ہے اور قوم اسکی متحمل نہیں ہے،، تو اسکا سیدھا سا جواب ہے،، مدارس تو .. قانون اسلام، کے لا کالج کا کام کر رھے ہیں، اور وہ بھی حکومت پر کسی قسم کا بوجھ ڈالے بنا..یعنی عوام نےکلی طور پر اپنی مدد آپ کے تحت اپنی آئندہ نسلوں کونظام اسلام سے واقف رھنے کے لیے ایک بندوبست کر رکھا ہے،، حالانکہ یہ بنیادی ذمہ داری تو ریاست ہی کی تھی.. جو اس سے فرار کی راہ اپنا کر بیٹھی ہوئی ہے،، جبکہ، دوسری طرف اردو کی شاعری پڑھانے اور شاعر تیار کرنے کے لیے، حکومت اربوں روپے خرچ کر ہی رہی ہے، بھاری تنخواہ پر اساتذہ، عمارات، امتحانی عملے، اور جانے کیا کیا، جس کا نہ تو عام آدمی کو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی ملک وملت کو، اور قوم پر حقیقی بوجھ تو وہ ہے، تو اسے قائم رکھ کر فقط مدارس ہی کو ٹارگٹ کرنا تو پھر سیدھی سی دشمنی ہی کہلائے گی، جبکہ مدارس ہی ہیں جو ملک بھر میں علما کی ضرورت کو نہ صرف پورا کررہے ہیں، بلکہ باقی دنیا کو بھی علما فراھم کر کے اوورسیز کے ذریعہ سے بھاری ذر مبادلہ بھی ملک کودے رہے ہیں، اس طرح یہ اعتراض بھی دم توڑ دیتا ہے،،
اگر ھم دیکھیں کہ.. کہ آیا وہ کونسا حقیقی معاملہ ہے جو تقاضا کرتا ہے کہ، مدارس کو وزارت تعلیم کی سرپرستی میں دیا جائے تو،، وہ صرف ایک ہی ایشو ہے، اور وہ ہے،
طلبا کی ابتدائی تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت،،
میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ، دینی مدارس کے طلبا اور ارمی پیبلک سکول کے طلبا کے رویوں میں کافی فرق ہوتا ہے،، مگر، جب ھم اسکا گہرائی سے موازنہ کرتے ہیں تو،صرف ایک چیز،، “جنس مخالف کے لیے رویہ “” ایک ایسی چیز ملتی ہے، جو آرمی پیبلک سکول جیسے اداروں کے بچوں میں مدارس کے طلبا کی نسب بہتر ہے،، باقی معاملات زندگی کا ہر رویہ آداب گفتگو،سعادت مندی،گھر والوں کی فکر، ساتھیوں کی فلاح،، انسانی ھمدردی،، جانوروں سے پیار،، ایثار، محبت، سچ بولنا، احساس ذمہ داری غریب پروری ،، ایسی ہر چیز میں مدارس کے طلبا باقی کسی بھی تعلیمی نظام کے بچوں سے کہیں زیادہ بہتر ملتے ہیں،، یہاں آرمی پیبلک سکول کا حوالہ مجھے اس لیے دینا پڑا ہے کہ، آرمی پیبلک سکول ہی کے نظام، پاکستان بھر میں سکولوں کے لیے ماڈل ہیں اور سب سے بہتر ہیں،، باقی تو ملغوبہ نظام ہے حامل ادارے تو کسی گنتی میں ہی نہیں آتے “” تو ایسے میں باقی سب کو چھوڑ کر صرف مدارس کے بچوں کو ٹارگٹ کرنا،واضح طور پر اہل مدارس کو اصلاح کی نہیں بلکہ فقط دشمنی ہی کا احساس دلاتا نظر آئے گا،، ایسے میں حکومت کو چاہئے کہ، یا تو پورے ملک میں ابتدائی تعلیم کے لیے یکساں نصاب بنا کر، ملک کے ہر ادارے سے اسکی پابندی کروائے، اور مدارس کو بھی اسکا پابند بنائے،، یہ تو ہوسکتا ہے،، مگر. یوں تباہ حال تعلیم کو اسکے حال پر چھوڑ کر محض مدارس کو ٹارگٹ کرنا، یقینا نہ سمجھ آنے والی ہی بات ہے،،، ہاں حکومت کے کرنے کا کام یہ ہے مدارس کے لیے کہ مدارس کا مالی آڈٹ لازمی کرے.. انکم کے ذرائع اور اخرجات کی تفصیل، کا مناسب آڈٹ ہو، بلکہ ہو سکے تو کم وسائل اور زیادہ کام کے حامل اداروں کو سپورٹ بھی کرے، جہاں بے قاعدگیاں ہیں ان پر مواخذہ بھی کرے، آئین اور قانون کے خلاف جہاں بھی کچھ ہورھا ھوبلارعائت اسکو روکے اور قانون کی یکساں عملداری کو سب ہی کے لیے یقینی بنائے،، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ، پاکستان میں ہر طرح کے تعلیمی نظام اور معاملات میں بشمول مدارس اصلاح کی بہت زیادہ گنجائش اور ضرورت ہے، اور حقیقی تقاضا تو یہی ہے کہ پورے نظام کو درست کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے، اور ملک میں دس سالہ تعلیمی پروگرام ایک ساتھ پورے پھیلاو کے ساتھ لاگو کیا جائے، یہی واحد ایک طریقہ ھے سارے تعلیمی معاملات کو درست کرنے کے..

فیس بک تبصرے