حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

دانشوروں کے بارے:دعا عظیمی

.
میں نے کہا کون ہے بولے” دانشور ”
ہم بدکے اور بھاگے، بچپن سے لاشعوری خوف ہے کچھ” دانش ” اور دانشوری سے۔۔۔ عجیب سی سنجیدگی کی بو آتی ہے ہمیں ماحول بوجھل سا ہو جاتا ہےاور ہنسی کی فضا دل کی طرح ڈوب ڈوب جاتی ہے طبیعت اوبھ اوبھ جاتی ہے۔۔۔ لہذا اپنی من چلی طبیعت کا لحاظ کرتے ہوۓ ہم اکثر دانشوروں کی بیٹھک سے دور ہی رہے لیکن اب بچ کے کہاں جاییں جب سے فیس بک استعمال کرنا شروع کیا۔۔ اب تو قدم قدم پہ بلکہ چپے چپے پہ
ان ہی کا راج ہے وہ ہنر علم دانش کے اسلحے سے لیس اور ہم نہتے بیچارے۔۔۔!
چارو ناچار ہم نے بھی سوچ بچار کی عادت پختہ کی اور مشق سخن آزمانے لگے،،جب تعداد فالورز کی اکائ سے ٹاپ کر دہائ تک پۂنچی تو سمجھو اپنی تو نکل پڑی یعنی پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں، اب پتہ چلا کہ خلیل خان فاختہ کیوں اڑایا کرتے تھے ہمارے تو خیر ہاتھوں کے سارے طوطے اس روز اڑ گۓ جب ہمیں باقاعدہ مصنفہ مان لیا گیا کبھی ہم خود کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے تھے ۔۔۔۔ اب اس عمر میں دانائ اور دانشوری کے طاقتور نشے کا پتہ چلا تو ہم ہاتھ دھو کے مطالعہ کے پیچھے پڑ گۓ، کتاب کھولتے ہیں تو کتاب اوپری اوپری سی لگتی ہے کہ آنکھ کو تیز روشنی والی سکرین پر لفظ پڑھنے کی عادت ہے کتاب کے صفحوں کو کون دیکھے ایکدم پھیکے پھیکے لفظ نہ رنگ نہ روشنی نہ تصویر نہ کمنٹس ۔۔۔۔
ہمارے بہت سے بھائ بند سوشل میڈیا پہ راج جمانے بیٹھے ہیں تھوڑے دنوں بعد معلوم ہوا کہ حقیقی دانشوروں اور سوشل میڈیا کے دانشوروں میں خوب ٹھنی ہے، وہ کہتے کہ ہم نے اپنی جوانی وقت کی بھٹی میں پکای ہے اور یہ جمعہ جمعہ آٹھ دن ہمیں احساس تو ہوا کہ ان کی یعنی حقیقی سند یافتہ دانشوروں کی تھوڑی پریشانی ہے تو حقیقی بلکہ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے دیسی مرغے بمقابلہ برائلر۔۔۔۔ برائلر تو بن ماں باپ کے
پنپ جاتے ہیں چاہے ان کی ٹانگیں لڑکھڑاتی ہوں مگر ان کی کھیپ کتنی آبادی کی کھانے کی ضرورت کو پورا کرتی ہے بالکل ایسے ہی سوشل میڈیا کے دانشور اپنی دانشوری سے کتنے مسائل کا حل چٹکیوں میں نکال مارتے ہیں ۔۔دانتوں کے درد سے لے کر مسلۂ کشمیر کے حل تک ہر مسئلے کا حل ان کی پٹاری کی پوسٹس میں پایا جاتا ہے، دانشور کبھی شعر و شاعری کے ردیف کافیے سے دو دو ہاتھ ہوتے ہیں ، کبھی ہماری طرح نثر کے میدان میں قلم کے گھوڑے دوڑاۓ پاۓ جاتے ہیں ۔۔۔صحت عامہ کے مسائل پر روشنی ڈالنی ہو یا ایٹمی جنگ سے نبٹنا ہو بچوں کی تربیت کا معاملہ ہو ، سیاسی منظر نامہ ہو اب دنیا سماجی رابطے کی تیزترین دنیا پر حکمرانی کرتے دانشوروں کے قبضہ قدرت سے باہر نہیں رہی کوئ مانے یا نہ مانےکسی بھی مسئلے پر راۓ عامہ ہموار کرنے کے کے لیے ان ہی دانشوروں کی دانشوری کام آتی ہے۔
دوستوں سے مودبانہ گزارش ہے کہ دانش کسی کی میراث نہیں اس کے سوتے کبھی بھی کسی کی بھی شخصیت سے پھوٹ سکتے ہیں تاہم اصلاح معاشرہ کے ساتھ ساتھ دانشوروں کو محتاط اور شائستہ رویہ اپنانے کی ضرورت ہے اور اگر کبھی کبھار حقیقی دانشور ان سے نالاں ہوں تو سوشل میڈیا کے شیر دل برائلر کو ایک شعر زہن نشین رکھنا چاہےجو بچپن سے ازبر ہےاور ہر مشکل موقعے پر ڈھارس بندھاتا ہے، اور وہ ہے
تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب۔۔۔۔

فیس بک تبصرے