حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تیزی سے ختم ہوتی ہوئی مہلت ۔ بشارت حمید

.

جن لوگوں کی عمر میری طرح چالیس سال سے اوپر ہو چکی ہیں میرے سمیت ہم سب اپنا اپنا جائزہ لیں کہ ہم نے اب تک اس زندگی سے حاصل کیا کِیا ہے۔ ایوریج عمر کا بیشتر حصہ ہم گزار چکے ہیں۔۔ کیا معلوم کب وہ وقت آن پہنچے جب ہم اللہ کے حضور پیش کر دیے جائیں گے۔۔

ذرا چشم تصور سے دیکھئے کہ میں اور آپ اللہ کے دربار میں اپنے اعمال کے ساتھ کھڑے ہیں۔۔ اور اب دنیا میں واپسی کا کوئی سین نہیں ہے۔۔ جس دنیا میں ہم سٹیٹس شہرت مال و دولت اور جائیدادیں جمع کرنے میں لگے رہے کہ زندگی اچھی گزر جائے۔۔ تو اب وہ زندگی تو گزار لی ۔۔ اللہ کے پاس کیا لے کر آئے ہیں۔۔۔

عنقریب وہ وقت آنے کو ہے جب ہم ماضی کی تاریکیوں میں اس طرح گم ہو جائیں گے کہ ہمارا تذکرہ بھی لوگ بھول جائیں گے بالکل اسی طرح جیسے ہماری اس دنیا میں پیدائش سے پہلے ہمارے بارے کوئی جانتا بھی نہیں تھا۔ اللہ کے سوا کسی کو یہ علم نہیں تھا کہ فلاں گھر میں اس نام کا ایسا بچہ پیدا ہو گا جو دنیا آ کر میں یہ یہ کرے گا۔ ہمارے پیدا ہونے سے قبل ہمارا نام بھی کسی کے حاشیہ خیال میں نہیں تھا۔ ہمارے اس دنیا سے اٹھ جانے کے بعد بھی ہمارا یہی حال ہونے والا ہے۔۔

ہم اپنے خاندان میں نظر دوڑائیں کس کس کے والدین حیات ہیں۔۔۔ اگر والدین کی نعمت موجود ہے تو کس کس کے دادا دادی اور نانا نانی موجود ہیں۔۔ شاید ہی کوئی ایسا ہو جس کے یہ بزرگ ابھی زندہ ہوں۔ وہ بھی اپنی زندگی میں سمجھتے تھے کہ ہم ہیں تو یہ نظام چل رہا ہے اور اب میں اور آپ بھی یہی خیال کرتے ہیں کہ ہم نہ ہوں تو یہ نظام کیسے چلے گا۔۔ ان کے گزر جانے کے بعد بھی دنیا کا نظام چل رہا ہے اور ہمارے گزر جانے کے بعد بھی چلتا رہے گا۔۔

یہ ساری باتیں ری کال کرنے کا مقصد یہ ہے کہ میں اور آپ اپنا اپنا خود محاسبہ کریں کہ ہم کس حد تک اخروی زندگی کی تیاری کر پائے ہیں۔۔ وہاں کے نہ ختم ہونے والے مستقبل کیلئے کیا کیا پلاننگ کی ہے اور کیا کچھ جمع کر لیا ہے۔۔ اس عارضی قیام گاہ میں رہنے کیلئے پلاننگ تو مرتے دم تک ختم نہیں ہوتی لیکن اگلی مستقل قیام گاہ کیلئے کس درجے کی تیاری ہے۔۔ وہ وقت سر پہ کھڑا ہے جب ہم اس دنیا کی چکاچوند سے ڈس کنیکٹ ہو جائیں گے۔۔

اس جہاں میں پیدا ہونے سے قبل ہمیں یہ علم اور شعور نہیں تھا کہ ہم کس گھر کس شہر اور کس ملک میں پیدا ہوں گے اور کن حالات سے واسطہ پیش آئے گا۔۔ اسی طرح اگلی منزل کے بارے ہمیں علم نہیں کہ ہمارے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا البتہ یہ اللہ کا احسان ہے کہ اس نے اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے ہمیں اس کے بارے خبردار کر دیا ہے۔

جو لوگ اللہ اور آخرت کو نہیں مانتے اور اس بنا پر خود کو لبرل اور مذہب بیزار ظاہر کرتے ہیں وہ بھی موت کا انکار نہیں کر سکتے۔۔ انکے بھی دل میں اپنے قریبی عزیز کی موت پر یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کی روح سکون میں ہو۔۔ لاشعوری طور پر وہ بھی جنت کے ہونے کو دل میں تسلیم کررہے ہوتے ہیں لیکن دنیا میں رہتے ہوئے شیطان کے بہکاوے کا شکار بن کر اپنی زندگی کا محور اس دنیا کے حصول کو بنائے رکھتے ہیں۔۔

اللہ کا انسانیت کے نام پیغام قرآن مجید ہے اور یہ لاریب کتاب 1400 سال سے حرف بحرف اسی حالت میں ہم تک پہنچی ہے۔ اس سے تعلق قائم کرکے ہی ہم دین کی اصل دعوت تک پہنچ سکتے ہیں۔۔یہی کتاب ہمیں اللہ کی پہچان کرواتی ہے۔ آخرت کے بارے خبریں ہم تک پہنچاتی ہے اور لوگوں کے من گھڑت عقائد و نظریات کی نفی کرتی ہے۔ جب تک ہم اس کتاب سے تعلق قائم نہیں کریں گے اس سے خود نصیحت حاصل نہیں کریں گے تب تک سیدھی راہ سے دور ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اور اپنے خود ساختہ عقائد کے مطابق اپنی زندگی پر شاداں و فرحاں مطمئن رہیں گے۔ پھر وہ وقت آن پہنچے گا جب ہمارے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ باقی نہیں رہے گا کہ ہائے افسوس ہم نے دنیا جمع کرنے میں زندگی کھپا دی لیکن آخرت کو بس جھوٹی امیدوں پر ہی نظر انداز کئے رکھا۔۔ پھر اس احساس کا کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔

آئیے ہم اس کتاب سے جڑ جانے کی پلاننگ کریں۔اس کو سمجھ کر پڑھنے کی کوشش کریں۔۔ کسی اچھے ترجمے کی مدد حاصل کریں اور پھر جہاں دنیا جہان کی مختلف زبانیں سیکھتے ہیں صرف دنیا کمانے کیلئے۔۔ وہیں اس کتاب کو سمجھنے کیلئے عربی سیکھنے کی کوشش بھی کریں تاکہ یہ کلام اپنا اثر ڈائریکٹ ہمارے دلوں پر ڈالے جیسے کہ عربوں پر ڈالا تھا اور انکی زندگیاں تبدیل کرکے رکھ دی تھیں۔ اللہ ہمیں اس کی ہمت اور توفیق عطا فرمائے۔

فیس بک تبصرے