حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

چند حسینوں کے خطوط – شکور پٹھان

جہاں بہت ساری بدقسمتی انسان سے جڑی ہوتی ہے وہیں ایک بدقسمتی ‘ شرافت’ بھی ہے۔ یہ شرافت کسی کام کا نہیں رہنے دیتی۔ بندہ سینکڑوں ارمان لےکے آتا ہے اور لاکھوں حسرتیں لے کر چلا جاتا ہے۔

غم آرزو کا حسرت سبب اور کیا بتاؤں
مری ہمتوں کی پستی مرے شوق کی بلندی

جوانی دیوانی میں اس کم بخت شرافت کے ہاتھوں بہت خواری ہوئی۔ دل کی کتنی ہی باتیں خوف فساد خلق کی نذر ہوگئیں۔ کسی اچھی صورت کو دیکھا اور دل مسوس کر رہ گئے۔ یہ نہ ہوا کہ آگے بڑھ کر اظہار تمنا کردیا۔

اب الحمدللّٰہ صورتحال کافی امید افزا ہے۔ سماجی ذرائع ابلاغ نے بے زبانوں کو بھی زبان دے دی ہے اور یار لوگ بے دھڑک کسی نازنین کے حسن کی تعریف کر ڈالتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ ‘ مس پریوں کی شہزادی’ نے جو تصویر لگائی ہوتی ہے وہ کسی نامعلوم اداکارہ یا ماڈل کی ہوتی ہے۔ ہمارے ایک دوست کا قصہ ہے کہ ان کی دوستی ایک خاتون سے فیس بک پر ہوگئی۔ بہت دنوں کی خط وکتابت کے بعد دونوں نے ایک دوسرے سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ طے یہ پایا کہ ایک مشہور ‘ جوس کارنر’ پر ملاقات ہوگی۔ خاتون نے پوچھا کہ میں آپ کو پہچانوں گی کیسے؟ حضرت نے بتایا کہ میں نیلی قمیض میں ہوں گا، مزید یہ کہ امرود کا جوس کوئی نہیں پیتا، میرے ہاتھ میں امرود کے جوس کا گلاس ہوگا۔
اب ہوا یہ کہ وقت مقررہ پر جب یہ وہاں پہنچے تو شربت کی دکان پر امرود کا رس نہیں تھا۔ خیر انہوں نے موسمی کا شربت لے لیا اور اپنی انجانی محبوبہ کا انتظار کرنے لگے۔ کچھ دیر بعد ایک پینتالیس ، پچاس سالہ سیاہ رو ، فربہ اندام اور پستہ قد خاتون دکان میں داخل ہوئیں۔ اتفاق سے دکان میں اور کوئی گاہک نہیں تھا۔ خاتون سیدھی ہمارے نیلی قمیص والے دوست کی جانب آئیں اور استفسار کیا کہ آپ ہی محمد بشیر ہیں ؟
” یہ آپ کو امرود کا جوس نظر آرہا ہے؟ ” ہمارے دوست نے گلاس دکھاتے ہوئے پوچھا۔

فیس بک پر تو یہ تماشہ آئے دن لگا رہتا ہے۔اگر خیر سے کوئی ‘ثابت شدہ’ یعنی مستند حسین اور جوان اور طرح دار خاتون نظر آئیں پھر آپ دیکھیں کہ کیسے کسے ثقہ حضرات ریشہ خطمی ہوئے جاتے ہیں۔ اوسط سے کم درجے کی ذہانت لیکن نک سک سے درست خاتون کوئی فضول سی تصویر لگائیں گی اور بڑے بڑے جیّد اور جغادری بزرگ تین دن تک اس کی تعریف میں رطب اللسان رہیں گے۔ پیار بھرے جن بولوں کے لئے ان کی اپنی ذاتی گھروالی زمانوں سے ترس رہی ہوگی اس تصویری حسینہ کے لئے زبان وبیان کے ایسے ایسے پھولوں کے مضمون سو رنگ سے باندھیں گےکہ میر و غالب شرما جائیں۔

فی زمانہ یار لوگوں نے اس کے لئے ایک بڑا جامع لفظ ایجاد کیا ہے اور وہ ہے ” ٹھرک” ۔

لیکن یہ ” ٹھرک” زمانہ قدیم سے چلی آرہی ہے اور اس کا اظہار مختلف طریقوں سے ہوتا رہا ہے۔ ابھی کچھ دن قبل کراچی کے اتوار کے کتاب بازار سے قاضی عبدالغفار کی ” لیلیٰ کے خطوط ” ملی تو یاد آیا کہ ہمارے بہت سے بزرگ خط و کتابت کی آڑ میں کیا کیا کچھ کرتے رہے۔

اور ان بزرگوں کی یاد آئی تو ایک نام تواتر سے یاد آیا وہ تھا ” علامہ نیاز فتح پوری” ۔ تم یاد آئے اور تمہارے ساتھ زمانے یاد آئے۔ علامہ کا نام ذہن میں آیا تو دو علامہ اور یاد آئے ۔ اصلی تے وڈے یعنی علامہ اقبال اور علامہ شبلی نعمانی۔

ان میں سب میں مشہور قصہ تو علامہ نیاز فتح پوری کے رسالہ نقاد کے مدیر اعلی شاہ نظام الدین دلگیر اور ‘ قمر زمانی بیگم’ کا ہے۔ مزے کی بات یہ کہ فرمان فتح پوری اور مالک رام جیسے ادیب اور محقق بھی بس سنی سنائی ہی جانتے تھے۔ اصل قصہ کچھ اور ہی تھا۔
اور قصہ یوں تھا کہ نیاز فتح پوری ‘ قمر زمانی بیگم کے نام سے نقاد میں مضمون چھپواتے اور حسن پرست اور رومان پرور مدیر شاہ نظام دلگیر سے خط وکتابت کرتےاور ان کے دوست ضیاء عباس ہاشمی بھی اس کھیل میں شامل ہوتے، یہ خط وکتابت بڑھتے بڑھتے محبت ناموں میں بدل گئی۔ شاہ دلگیر بری طرح سے اس انجانی زلف گرہ گیر کے اسیر ہوگئے۔ ان کی آہ وبکا خطوط میں نظر آتی۔۔۔” پیاری بہت ستاتی ہو، خطوں کے جواب میں اتنی دیر؟ کل نہ مرا تو آج مرجاؤں گا”…. وہاں سے قمر زمانی کا جواب آتا۔۔۔” کیا کہوں کہ یہاں کیا گذر گئی۔ کاش میں گرد راہ ہوکر قدموں سے لپٹتی، نثار ہوتی، آنکھوں کا فرش بچھاتی، خدا کے لئے خفا نہ ہونا”۔ ۔۔۔۔
دل کی لگی جب حد سے گزرنے لگی تو ہمارے محمد بشیر کی طرح شاہ دلگیر نے بھی امرود کا جوس پینے کا فیصلہ کیا یعنی ملاقات پر اصرار کرنے لگے۔۔۔

اور پھر ایک دن قمر زمانی بیگم نے ملاقات کا عندیہ بھی دے دیا۔ وقت مقررہ پر دہلی پہنچ گئیں۔ شاہ دلگیر بھی آگرے سے دلی آگئے۔۔ اب مسئلہ یہ تھا کہ قمر زمانی بیگم کو کہاں سے لایا جائے۔۔۔ علامہ کے دوست اور رازدار ضیاء عباس ہاشمی کے ایک نوجوان عزیز محمود احمد جو ذرا سبک اندام اور چھریرے بدن کے تھے انہیں زنانہ لباس اور برقع پہنا کر شاہ صاحب سے ملاقات کے لئے بھیج دیا گیا۔۔اور سنا ہے محمود نے اپنا کردار خوب نبھایا اور بڑی لگاوٹ کی باتیں کچھ اس طرح کیں کہ شاہ سب مزید عاشق ہوتے چلے گئے۔
کہتے ہیں کہ دوسال بعد کہیں جاکر شاہ دلگیر کو یقین ہوا کہ قمر زمانی بیگم کوئی مرد ہیں۔ اس بیچ وہ انہیں نقاد کا جوائنٹ ایڈییٹر بھی بنا چکے تھے بلکہ یہ بھی کہتے کہ قمر زمانی کے وجود کا مجھے اس طرح یقین ہے جس طرح خود اپنے وجود کا۔

علامہ نیاز فتح پوری یہاں یہ تماشہ لگائے بیٹھے تھے تو دوسری طرف خود ایک شرارت کا شکار ہوگئے۔
نگار میں ‘ طاہرہ دیوی شیرازی’ کے افسانے شائع ہوتے۔ یہاں تک کہ ” سحر بنگال ” کے عنوان سے طاہرہ دیوی کا افسانوی مجموعہ بھی شائع ہوگیا۔ علامہ نیاز فتح پوری سے دیوی جی کی خط وکتابت ہوتی اور علامہ جی کو خبر ہی نہ ہوئی کہ طاہرہ دیوی شیرازی کوئی اور نہیں بلکہ ان کے دوست عندلیب شادانی ہیں ۔ کچھ لوگ چراغ حسن حسرت اور ضمیر جعفری کا نام بھی لیتے ہیں۔ لیکن کئی سال بعد فضل حق قریشی نے اردو ڈائجسٹ میں اس راز سے پردہ ہٹایا کہ طاہرہ دیوی شیرازی دراصل وہ خود تھے.

ادبی میدان میں قمر زمانی بیگم اور طاہرہ دیوی شیرازی کی دھوم تھی تو وہاں سیاست کےنابغہ حضرت علامہ اقبال اور ادب کا معتبر نام علامہ شبلی نعمانی کا سلسلہ خط وکتابت اپنے وقت کی ایک نامور ، ذہین، باصلاحیت، صاحب ثروت اور خوش جمال وخوش خصال خاتون ” عطیہ فیضی آف جنجیرہ ” سے جاری تھا اور یہ خط وکتابت صرف علم وادب، سیاست اور مذہب ہی کے بارے میں نہیں ہوتی تھی بلکہ اس سے آگے بھی بہت کچھ تھا۔ اس سے قبل علامہ اقبال کی خط وکتاب ایما نامی جرمن خاتون سے بھی شہرت پاچکی تھی اور حکیم الامت اس جرمن خاتون سے کچھ ‘زیادہ’ ہی متاثر تھے۔۔لیکن شاید یہاں بھی ‘ شرافت’ آڑے آگئی۔

خطوط کا ایک اور سلسلہ بہت مشہور ہوا اور وہ ایک پاکیزہ اور سچی محبت کی یادگار ہے۔ یہ خط صفیہ اور اختر کے تھے۔ اسرار الحق مجاز کی بہن صفیہ اور مضطرخیرآبادی کے صاحبزادے جاں نثار اختر کے درمیان یہ خط ان کی شادی کے بعد لکھے گئے جو سادہ سی گھریلو خط وکتابت تھی جس میں گھریلو مسائل ، بچوں کی صحت، مالی مسائل اور ہجروفراق کی باتوں پر مشتمل ہوتے۔ آج کی مشہور اداکارہ شبانہ اعظمی کی ساس اور مشہور شاعر جاوید اختر کی ماں صفیہ شادی کے کچھ عرصہ بعد ہی دنیا سے چلی گئیں۔ ان کی یاد میں جاں نثار اختر نے ‘ صفیہ کے مزار پر’ ۔۔۔ کتنے دنوں میں آئے ہو ساتھی ؟۔۔جیسی دل دوز نظمیں لکھیں۔ پھر نجانے کیا ہوا کہ ‘ حرف آشنا’ اور ‘ زیر لب’ کے عنوان سے ان خطوط کو شائع کردیا۔

اللہ ہی جانے ایک ترقی پسند اور رومان پرور شاعر نے یہ کاروباری حرکت کیوں کی۔

فیس بک تبصرے