حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

چھوٹو کی چائے-فاطمہ حورین

ادھر سے سورج کی پہلی کرن پھوٹی تو ادھر انگ انگ میں بسے تخیل و خیالات سے بھرے خوابوں کی قبا چاک ہوئی۔ برسوں سے چلی آرہی ریت نبھاتے چھوٹو اینڈ کمپنی کے اول دستے کی آمد ہوئی ۔وہ خود تو نہ پڑھ سکے مگر نہ جانے کتنے پڑھنے والوں کو اپنے ہاتھوں سے نکال چکے تھے۔

یہ چھوٹو کی چائے تھی ۔جو اقرا یونیورسٹی کی تاریخ کا جب بھی ذکر ہوگا تب چھوٹو کی چائے کے بنا خیالات ادھورے رہ جائیں گے۔ صبح سے لے کر رات کے 10 بجے تک چھوٹو ہٹس کا بڑا چولہا اور چائے کے سمندر کی طرح بھرا کیتلہ ابلتا رہتا ہے، استاد شاگرد اور چھوٹے بڑے کی تمیز ختم ہوجاتی ہے۔سندھی بلوچ پنجابی پختون سرائیکی اور کشمیری رنگ نسل اور علاقے کا تصور ختم ہوجاتا ہے تب ایک آواز آتی ہے

“قادر ایک ٹوکن جگر”
پھر اتنے سارے کپ لیتا قادر کسی آتنگ وادی کی نظر سے دوڑتا ہوا آتا ہے اور کہتا ہے “یہ لو استاد”
کئی برسوں پر محیط اس چھوٹو کے ڈھابے نے ہزاروں چاہنے والے پیدا کیے ۔ کوئی ڈراپ ہوکے یونیورسٹی سے چلے گئے مگر چھوٹو کا نام یاد رکھا کوئی سفیر کوئی سی ایس پی اور کوئی اعلی عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود بھی چھوٹو کو نہ بھلا سکے وہ آج بھی اپنی فمیلیز سمیت چھوٹو کی چائے کی چسکی لگانے پہنچے ہوئے ہوتے ہیں۔ چائے میں ایک چاہت تھی، چھوٹو کی چائے پیتے ہی پاکستان سمیت دنیا بھر کی سیاسی و معاشی گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ بجتے ہیں تالی سے تالی جڑتی ہے صبح سے لے کر شام تک چھوٹو کا 10 سٹار ڈھابہ یونیورسٹی کو اپنا گرویدہ بنائے رکھتا ہے۔۔۔

یوں شام بیت جاتی ہے، پنچھی گھروں کو چلے جاتے ہیں وقت کے ساتھ چھوٹو کا چولہا بھی ٹھنڈا ہوجاتا ہے۔نہ جانے کتنے لوگ آئے کتنے چلے گئے مگر چھوٹو سے گڈ مومنٹس کی یادیں آج بھی تازہ ہیں۔رسم وفا نبھانے والے آج بھی اپنے ان بہترین دوستوں کی یاد میں چھوٹو کی چائے پینے امڈے چلے آتے ہیں جہاں ان کے جیون ساتھی ملے مگر بچھڑ گئے، کچھ اپنے ان دوستوں کی یاد میں چھوٹو کی چائے کا کپ پینے آتے ہیں جو ان کے ساتھ تھے کبھی مگر آج منوں مٹی کے ملبے تلے ہیں۔
پاکستان بھر کی یونیورسٹیز سے الگ تھلگ جامعہ اقرا کی یہی روایات اور ثقافت اس کو دنیا بھر میں ممتاز بناتی ہے یہی روایات کی امین جامعہ نے اب تک میلوں دور بیٹھے یونیورسٹی کے دھڑکتے دل کے ساتھ اپنی یادیں باندھی ہوئی ہیں۔۔
“کرچلے سفر تو یاروں کو وطن یاد آیا
کرچلے دفن تو یاروں کو کفن یاد آیا”

فیس بک تبصرے