حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

چنار کوٹ کا ایک سر سبز گاؤں -سید ثاقب شاہ

اس وقت ملک بھر میں گرمی اپنی پوری طاقت مظاہرہ کر رہی ہے. ماہ رمضان کا مبارک مہینہ میں کیا کراچی کیا لاہور، پنڈی، اسلام آباد سب ہی گرمی کا رونا رو رہے ہیں. ایسے میں ہم کراچی کے گرم ترین موسم سے بچ کر خیبر پختون خواہ کے ٹھنڈے علاقے کا رخ کیا ہوا ہے. یہ ضلع مانسہرہ سے 36 کلومیٹر کے فاصلے پر موجود تحصیل چنارکوٹ ہے. چنار کوٹ کے ایک خوبصورت گاؤں جو سر سبز چادر اوڑھے پہاڑوں کی اوٹ میں موجود ہے. اس بستی کا نام کولیاں ہے. یہ وادی کونش کاحصہ اور شاہراہ ریشم پر واقع ہے. سرسبز جنگلات یہاں کے لوگوں کی معاشی اور معاشرتی زندگی کو سنوارنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں.
جون کے مہینے میں جہاں ملک بھر میں گرمی اپنی حدت و شدت سے ہورہی ہے. ایسے میں وہاں کے موسم کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ بسا اوقات وضو کے لیے بھی پانی کو گرم کرکے استعمال کیا جاتا ہے. جون کے مہینے میں ایسا موسم ملنا خوش قسمتی سے کم نہیں.
یہاں کئی آپ کو سرسبز خاموش پہاڑ تو کئی آپ کو شور کرتی ندیا اور دودھ نما چشمے دکھے گے. ہر جانب لہلہاتے کھیت، جھومتے ردخت، سرسبز و شاداب پہاڑ،سونے کی طرح چمکتی گندم کی فصل اور زمین پر بچھی سبز گھاس آپ کی آنکھوں کو سحر انگیز مناظر سے لطف اندوز کرے گے. شہر کی مصروف ترین زندگی، آلودگی، شور شرابہ سے دور اور خوشگوار موسم میں یہ جگہ جنت سے کم نہیں ہے .
آسمان پر بادلوں کا جھرمٹ اور خوبصورت چرند پرندوں کا ہوا میں اڑنا. دلکش آبشار اور ٹھنڈے پانی کے دودھ جیسے سفید چشمے اس وادی کی خوبصورتی کو چار چاند لگارہے ہیں. ہرے بھرے چنگلات اور ان میں آسمان کی بلندی کو چھوتے درخت، مختلف قسم کے رنگا رنگ پھول اسے مزید خوبصورتی بخش رہے ہوتے ہیں.
جلتی لکڑیوں کی دھیمی آنچ پر بننے والے لزیذ دیسی کھانے کا تو کوئی جواب ہی نہیں. بھینس کا خالص دودھ، دہی، مکھن، گھی، شہد اور یہاں اگنے والی سبزیاں، پھل و میوہ جات یہاں کے لوگوں کی صحت مند زندگی کا راز ہے.
یہاں آلو، ٹماٹر، مرچی، مرچولا، ساگ، کھیرا، پیاز تقریباً ہر سبزی اگائی جاتی ہے. اخروٹ اس علاقے کی پہچان ہے. اسکے درخت یہاں وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں. ہم کراچی میں اکثر گاؤں سے اخروٹ منگواتے ہیں. جو چٹنی، حلوے اور چاول کی بنی روٹی میں استعمال ہوتے ہیں.
یہاں کاشت کی جانے والی فصلوں کی بات کی جائے تو گندم اور مکئی جیسی اہم فصلوں کو کثرت کے ساتھ یہاں کاشت کیا جاتا ہے. مکئی کی روٹی کے ساتھ ساگ اور خالص دہی یہاں کی خاص سوغات ہے. اسکے علاوہ شادی بیاہ کے موقع پر بنائے جانے والے پکوان اور کلچے یہاں کی مشہور سوغات سمجھے جاتے ہیں. کلچہ میدہ، دیسی گھی، چینی، ملائی اور انڈے کے اجزاء سے تیار کیا جاتا ہے.
اس علاقے میں بھیڑیا جنگلوں میں بکثرت پایا جاتا ہے. جو رات ہوتے ہی مرغیوں کو اپنی خوراک بنانے کے لیے انکے ٹھکانوں پر حملہ کرتا ہے. اسکے علاوہ کئی خوبصورت پرندے درختوں اور فضا کی زینت بنے ہوتے ہیں.
مٹی کے بنے گھر زمینوں میں محنت کرتے محنت کش لوگ اور پہاڑوں کے پیٹ کو چاک کرتی ہوئی صاف کشادہ سڑکیں ایسے دلکش مناظر آپ کو یہی دیکھنے کو ملے گے.
یہاں کے لوگ رجعت پسند اور اپنی قدروں کے بارے میں بہت حساس ہیں. پہاڑوں اور جنگلات کی جانب آج بھی لوگ کئی میلو کا سفر پیدل طے کرتے ہیں. سفر کے دروان لاٹھی ساتھ رکھنا عام ہے. جو بوقت راستے میں کسی موذی چیز یا جانور سے نمٹنے کے طور پر استعمال کی جاتی ہے.
رمضان کے مہینے میں سحری میں دیسی گھی اور دودھ کا استعمال کثرت سے کیا جاتا ہے. افطار سادہ جبکہ کھانا پرتکلف ہوتا ہے. کھانے میں سبزیوں کا استعمال زیادہ کیا جاتا ہے.
ٹرانسپورٹ کی صورتحال تسلی بخش نہیں. دن میں مخصوص اوقات پر شہر و بازار جانے کے لیے گاڑیاں دستیاب ہوتی ہیں. ایسے میں ایمرجنسی میں کسی کو شہر جانا پڑے تو اسے کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے. کئی مریض بروقت ہسپتال نہ پہنچانے کی وجہ سے راستے ہی میں دم توڑ جاتے ہیں. ہسپتال گاؤں سے کئی میل کے فاصلے پر ہے. سرکاری اسکول تو موجود ہے مگر ان میں دی جانے والی تعلیم اور انکی کارکردگی اطمینان بخش نہیں. دیہات میں تعلیمی نظام کو بہتر اور مضبوط کرنے کی ضرورت ہے. یہاں کے بچوں کو خاطر خواہ تعلیمی ماحول نہ ملنے کے سبب وہ تعلیم کو چھوڑ کر زمینوں میں کام کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں.

سی پیک کے منصوبے کا حصہ یہ علاقہ بھی ہے. عین گاؤں کے درمیان سے اس منصوبے کی سڑک تعمیر کی جارہی ہے. جس پر کام جاری ہے. جو مستقبل میں اس علاقے کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا.

فیس بک تبصرے