حمد باری تعالیٰ

چہار درویشنیں،حصہ دوم :شفیق زادہ

۔

کہیں دل ملے، کہیں دل جلے
ہم نے اپنے لڑکپن میں خالو کی جوانی دیکھی تھی۔ چھ فٹ سے بھی اُبھرتا ہوا قد، سلیقے سے سنورے ہوئے بال (جس کی ایک لٹ پیشانی پہ جھول کر اُن کے رومان پسند ہونے کا اشارہ دیتی) کِھلتا ہوا گندمی رنگ اور کشادہ سینہ۔ چہرے پر مستقل چھائی معصومیت اور نرمی ایسی کہ کوئی بھی لڑکی دل ہار کے بھی جیت کی خوشی منا نے میں فخر محسوس کرے۔ شاید ہی کوئی حسینہ اِس بات سے واقف ہوگی کہ اِن کے چہرے پہ یہ نرم تاثرات کسی بھی خلافِ طبیعت بات پر ایسی کرختگی میں بدل جاتے کہ اگر گالی نہ بھی دیں تو مخالف کو اِس کا احساس ضرور ہو جاتا۔ ہمارے ایک کر کٹر دوست نے بتایا کہ بولنگ کے دوران خالو کبھی ایمپائر سے اپیل نہیں کرتے، بس چہرے کے تاثرات تبدیل کرلیتے، باقی کام ایمپائر خود کرلیتا۔ بے چارہ ایسا نہ کرے تو بات نکلتی ہے، جو پھر دُور تلک جاتی ہے۔ اُ ن کی آواز ایسی پاٹ دار کہ آج بھی بہتیروں کو اُن سے فون پربات مکمل کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ خالو کے اکثر کاروباری سودے صرف اس لیے ٹوٹ جاتے کہ دوسری پارٹی اُن کی آواز کی گھن گرج سے خوفزدہ ہوکر گفتگو کا سلسلہ منقطع کر دیتی۔ مگر اِسی آواز میں جب مہندی، شادی یا دوسری تقریبات میں مقصد یا بِنا مقصد ایسے ہی موقع کی منتظر لڑکیوں سے دھیمی لے میں کلام کرتے تو بے چاریوں کو رات رات بھر نیند نہ آتی۔ کروٹیں بدلنے کی وجہ سے تکیے پر ٹوٹے بال دیکھ کر مائیں بیٹی کی جوانی میں ہی گنجی ہونے کے ڈر سے تِل ملے سرسوں کے بدبو دار تیل سے مالش شروع کردیتیں۔ بعد میں اسکول یا کالج کاکام لینے کے بہانے ایک دوسرے کے گھر جا کر کمرہ بند کرکے دبی دبی آواز میں اپنے اپنے پوشیدہ جذبات سے بے خبر خالو پر حق جتایا جاتا اور ایک دوسرے سے کٹّی کی جاتی، جس کی وجہ جاننے کے لیے دونوں اطراف کی مائیں سر توڑ ناکام کوشش کرتیں اور یہ مان کر چپ ہو بیٹھتیں کہ اِس بار امتحان کچھ زیادہ ہی ’سخت‘ ہے۔ محلے کی لڑکیوں میں اُن کے کھوئے کھوئے لہجے، بکھرے بال ، کھلے گریبان اور سجیلے پن کی دُھوم تھی ۔ وہ شادی شدہ، منگنی شدہ اور تازہ تازہ جوان شدہ اِن معاملات میں تھوڑی بہت شُد بُد رکھنے والیوں کے حلقے میں اپنی اپنی پسند کے فلمی ہیرو کے مطابق وحید مراد، ندیم اور محمد علی مشہور تھے۔ کچھ ’ایڈوانسڈ یوزرز‘ یعنی حقیقت پسند بیاہی خواتین اور اپنے سرکاری ملازم ’غیر فعال ‘ شوہر کو ’نکھٹّو بکارِ خاص‘ سمجھنے والیاں، آنکھیں موند کر سپنوں میں اِن میں ’ سلطان راہی‘ کو بھی کھوجتی تھیں ۔ محلے کے کسی نرکو اِن سے اُلجھنے کی کبھی ہمت نہیں ہوئی کہ وہ بھولو برادران کے گارڈن والے اکھاڑے میں باقاعدگی سے زورکرنے اور بھری بھرکم ڈمبل اُٹھا کر کسرت کرنے جاتے تھے۔ ا س سے بڑھ کر یہ حقیقت بھی کہ زنانہ نظروں کی تیر اندازی کو اُنہوں نے ہمیشہ نظر انداز کیا اور کبھی بھی اندرون یا بیرون محلہ کسی کو نہ قریب آنے دیا اور نہ کسی کے قریب گئے، البتہ ہر کسی کے دُکھ سُکھ میں بوجھ اُٹھانے کے لیے اُن کے چوڑے اور مضبوط کاندھے سب سے پیش پیش ہوتے۔
جب اندرونِ صوبہ شورش شروع ہوئی تو کراچی کا رُخ اختیار کیا اور یہیں پر سسر صاحب سے اُن کی پہلی ملاقات ہوئی۔ کراچی جیسا بڑا شہر، جس کی ہر چیز خواب سے بھی بڑھ کر فسوں خیز تھی۔ اس شہر کی بڑی سڑ کیں، بڑی عمارات، بڑے ہوٹل،بڑی دکانیں، بڑے لوگ اور اِن سب سے بڑھ کر بڑی بڑی خواہشات، جن کو پورا کرنے کے لیے بڑی بڑی دوڑیں اور پھر بڑی جیت، جس کے بعد بڑی بڑی دشمنیاں، جن کو نبھانے کے لیے چھوٹی سی زندگی۔ عجب گورکھ دھندا تھا یہ شہر ، اندھی ممتا کی ماری ماں کے آنچل کی طرح سب کو سمیٹے ہوئے اتنا مہربان کہ محوِ خواب ہونے سے پہلے ہر پیٹ میں روٹی ضرور پہنچے۔ اور اتنا بے لوث کہ ہر اگلی صبح ناخلف مقیمین کے ہاتھوں مسترد ہونے کا دُکھ بھی سہے، مگر نہ شکوہ نہ شکایت۔ دُکھ کے موسم اور بیگانگی کے عذاب سہنے کے باوجود کسی کھمبی کی ما نند بڑھتا اور پھیلتا ہی چلا جا رہا ہے، ہر سائز کے بٹوے اور کم ظرف کے احسان فراموشوں کے لیے۔ اپنی بڑی جاگیر کو جلد اَز جلد چھوٹا کرنے کی اَن چاہی خواہش اِن کو جلد ہی بلبل ہزار داستان اور ریس کورس تک لے گئی، جہاں پر وہ پیروں فقیروں کے گھوڑوں کے مقابلے پر بازی لگاتے اور بغیر کسی تعویذ کے جیت بھی جاتے۔
اُنہی دنوں حیدرآباد سے حال ہی میں نووارد خالہ اوّل کی فیملی میں اِن کا عمل دخل شروع ہوا۔ پہلے پہل محلے کی پرچون کی دکان پر پھر سینما گھر اور بالآخر ریس کے میدان میں خالہ اوّل کے والد صاحب سے دوستی کی پینگیں بڑھائی گئیں۔ دونوں حضرات کی عمروں میں بھلے کافی فرق تھا، مگر شغل بہت مماثل تھے۔ بڑھؤ خرچ کرنے کے شوقین اور یہ شوقین پر خرچ کرنے والے۔ چند ہی مہینوں میں رفتہ رفتہ بڑے میاں اِن کے اتنے مقروض ہوگئے کہ خالو کا اُن کے گھر میں آنا جانا شروع ہوگیا۔ قرض کے اضافے کے ساتھ ساتھ گھر کے معاملات میں بھی اِن کو راہداری ملنی شروع ہوئی اور یہیں ایک روز کبوتروں کو ہلّا شیری کرتی ،گنگناتی، ہانک لگاتی،تمتماتے گلابی گالوں اور گہری سیاہ آنکھوں والی سرو قد خالہ اوّلین اُن کے دل میں کُھب گئیں۔ موصوفہ بھی اِن کی ناموری اور کارناموں سے انجان نہیں تھی، شاید اسی لیے مقناطیسی کشش کی مانند اُن کی طرف کھنچی چلی آئیں۔ نظریں ملنے سے دل ملنے تک کا مرحلہ بڑی سرعت سے طے ہوا، مگر اِس سے آگے کا مرحلہ پار کرنے کی ہمت دونوں ہی جوڑ نہیں پارہے تھے۔ اس غیر مرئی تعلق کو دستاویز کی شکل دے کر قابلِ حمل بنانے کے لیے بڑھؤ کی منظوری بہت ضروری تھی۔
بے وقوف کہتے ہیں کہ پیسہ بڑی شے ہے اور سیانے کہتے ہیں کہ پیسہ کچھ بھی نہیں ، اور اِس معاملے میں بھی رواج کے مطابق سیانوں کو شکست ہوگئی۔ پیسہ نامی چالو جن نے یہ مشکل مرحلہ بھی دستی طے کروادیا اور نیب زدہ سیاسی لوٹوں کے ہڑپ کیے ہوئے قرضوں کی مانند بڑھؤ کے تمام قرضے معاف ہوگئے۔ بڑھؤ کے کاندھوں سے قرض اور فرض دونوں کا بار ختم ہوگیا، دختر نیک اختر بالآخر پرائی ہوئی۔ اور اِس طرح خالہ اوّلین اُن کی زندگی میں داخل اور دخیل ہوئیں۔ اِدھر بڑھؤ اپنے بڑے پن کے عوض تا حیات مالی امداد کے حق دار ہوئے ۔
ان دونوں کی شادی بھی خوب تعلق ثابت ہوئی، بالکل آگ اور پیٹرول کی دوستی کی مانند، بھڑکتی کو بجھانے کی ہر کوشش مزید بھڑکنے کا سبب بن جاتی۔ دونوں نوجوان مہم جو ازدواجی مہم جوئی کی پیاس کو نمک سے بجھانے کی کوشش کرتے، اِس سے بھلا پیاس کیا بجھتی، نا آسودگی اور بڑھ جاتی، مگر بادلوں کی طرح تیرتے ہنسوں کے اِس جوڑے کو پیاس بجھانے کی کوئی جلدی تھی بھی نہیں۔ خالہ اور خالو کی یہ جوڑی خوب شہرت حاصل کررہی تھی۔ اب تو محلے سے باہر بھی دُور تک خالو کی مردانہ وجاہت اور خالہ کی مسحور کن خوب صورتی کے قصّے کیپٹل ٹاک کی طرح عام ہونے لگے تھے۔ موٹر سائیکل کی پچھلی سیٹ پر خالو سے چپک کر بیٹھی خالہ، جب کچی اور ٹوٹی سڑک پر اپنا توازن سنبھالنے کی کوشش میں خالو سے کچھ اور چپک جاتیں تو خالو کو موٹر سائیکل سنبھالنے اور دیکھنے والوں کو نظریں ہٹانے میں بہت دِقت ہوتی۔ دونوں ہی سماج اور سماج کے ٹھیکیداروں کے جلنے بھننے کا خوب سامان کر رہے تھے۔ گہرے گریبانوں کا فیشن شریف زادیوں نے ابھی تک نہیں اپنایا تھا، لہٰذا چادر نما دوپٹے سے بدن کو ڈھانپ کر چہرے اور سر پر لپیٹنے کے بعد جو کچھ تھوڑا بہت عیاں ہوتا ، نظر باز اُسی کو دیکھ کر سرد آہ بھر لیتے۔ استخوانی بدن والی ماڈلز ابھی رسالوں کے سرورق پر نمودار ہونا شروع نہ ہوئی تھیں اور بھرے بھرے جسم والی کَسی کَسائی خواتین خوب صورتی کا پیمانہ تھیں۔ اس حقیقت سے کسی کو تردّد نہ تھا کہ اِس پیمانے کے لحاظ سے خالہ اُس زمانے یادَ ور کا اسٹینڈرڈ پیس تھیں، جس کو ایک دل جلے کے بقول ، پیرس کے اسٹینڈرڈ ہاؤس میں ٹمپریچر اینڈ اینوائرمنٹ کنٹرولڈ شوکیس میں ہونا چاہیے تھا، مطلب سماجی رشتوں کی چیرہ دستیوں اور شوہرانہ دست برد سے محفوظ۔ اتنا محفوظ کہ امتدادِ زمانہ بھی جسے چھو نہ سکے۔

فیس بک تبصرے

شفیق زادہ

تبصرہ شدہ

تبصرے کے لیے دبائیں

  • انتہائی عمدہ ادب سے لبریز تحریر کہ جس میں حسِ مزاح کا میعار بھی اپنی بلندیوں پر ساتھ میں الفاظ اور جملوں کا ایسا استعمال کہ کہانی پڑھنے والے کا تسلسل اور تجسس ٹوٹنے نہ دے مطلب پڑھنے والے کے لیئے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ کہانی کو ادھورا چھوڑ دے.

    ایک مکمل ادب سے بھر پور کہانی.