حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

چہار درویشنیں-قسط6:شفیق زادہ

۔

’ شفیق زادہ ‘ کے قلم سے، جدید دور کی ایکتا کپوری ٹرینڈ بیویوں کا دھماکہ خیز اتحاد جس نے راہ میں آنے والی ہررکاوٹ کا تورا بورا کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی
گذشستہ سے پیوستہ ——–

اُمّ الحرب
———-
شام کو دفتر سے گھر آتے ہوئے جب ہم پنواڑی بابو کے کھوکھے پر حسبِ ہفتہ وار معمول گلوقند کا خوشبودار بِیڑہ لینے رُکے تو ہمیں اُس کی باچھیں طویل لوڈ شیڈنگ کی مانند ایک سرے سے دوسرے تک چِری ہوئی نظر آئیں۔ جب سے ہم نے ایک نکمّے ڈینٹسٹ سے داڑھ میں روٹ کنال کروایا تھا، تب سے بیگم ضد پر اَڑ جاتیں کہ کم اَز کم شبِ جمعہ تو قوام بھرا خوشبودار پان کھالیا کریں۔ یہ ایسی ہدایت تھی، جس سے رُو گردانی کم اَزکم اِس نام نہاد بھری جوانی میں ہمارے بس کی بات نہیں تھی۔ ہم مہنگا روۓ ایک بار سستا روئے بار بار کا جاپ کرتے اس نکمّے کی نیکیوں میں اضافہ کرتے پنواڑی بابو کے درشن کو نکل پڑتے۔ ہمارے چہرے پہ نظر پڑتے ہی وہ ہنس پڑا تو ہمارا دھیان پہلے اپنی پتلون کی زِپ اور پھر فوراً پان کی گلوری کی وجۂ خرید پر گیا۔ ہمیں سخت تو طیش آیا مگر خاموش رہے کہ کم بخت گھر کا بھیدی ہے، نہ جانے کہاں کہاں جاکر داستانی بد گوئی کرے کہ ہمارا ڈولتا لنکا ہی ڈھادے۔ وہ ہمارے اِن خیالات سے بے خبر کہنے لگا، ’کچھ سنا آپ نے؟‘ ہم نے استفسار کیا،’نہیں؟ کیا ہوا‘ وہ پھر زور سے ہنس پڑا اور بولا، ’آج اِدھر گلی میں عین میری دکان کے سامنے اُمّ الحرب ہوگیا‘۔ کم بخت کو جنس کی بھی تمیز نہ تھی۔ اِس سے پہلے کہ ہم کچھ کہنے کو منہ کھولتے اُس نے اُمّ الحرب کا اعلامیہ جاری کرنا شروع کردیا۔ اُس کے بیان کردہ اعلامیہ میں مقررہ مقدار سے کہیں زیادہ تکنیکی اصطلاحات یعنی فحش کنائے اور بازاری استعارے تھے، جو نہ تو ضبط تحریر میں لائے جاسکتے اور نہ اشاعت کے قابل تھے۔ لیکن یہ بیانیہ دور حاضر کے اسٹیج ڈرامہ رائٹرز یا پھر ٹی وی چینلزکے سٹ کوم ٹائپ گُڈ مارننگ کہتے لائیو کامیڈی شوز کے لیے بہترین اسکر پٹ ہوتا، جو شام تک نشر ہوتے ہی رہتے اور ٹی وی بند ہونے کے بعد بھی گونجتے رہتے حتیٰ کہ نئی صبح طلوع ہو جاتی۔

بعد میں جو کچھ ہمارے کانوں نے سنا اور جس کی تصدیق آزاد ذرائع سے بھی ہوئی، حیران کن حد تک سنسنی خیزتھا۔ ہماری ماسی نے جب یہ معرکہ ہوتے دیکھا تووہ بگٹٹ بھاگتی سیدھے خالو کے گھر پہنچی۔ چھوٹی خالہ نے دروازہ کھول کر اُسے اندر بلایا۔ماسی چیخ کر بولی، ’اے لو! یہ غَر پر بلانے کا وَخَت نئیں، باہر نکل کر جیہاذ کرنے کا وَخَت ہے۔ جلدی چلیے ورنہ ساری بیغمات کو چوریاں تورنی پریں غی۔ باہرغلی میں بینک والے مرد تم سب کے مرد کو نامرد کرکے تم لوغ کو نامراد کرنے پہ تُلے ہیں‘۔ خالہ اوّل معاملے کی ناگہانی اور نزاکت فوراًسمجھ گئیں اور ننگے پاؤں دیوانہ وارباہر دوڑ پڑیں۔ اُن کو بھاگم بھاگ گھر سے نکلتے دیکھ کر بقایا تگڑم بھی اُن کے پیچھے دوڑ پڑی، مگر اِس بوکھلاہٹ میں بھی چھوٹی خالہ دالان میں پڑا کرکٹ بیٹ اُٹھانا نہیں بھولی۔ اس پلاٹون کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں زیادہ وقت نہیں لگا اور واردات سمجھنے میں تو بالکل بھی دِقت نہیں ہوئی۔ خالو مقامی پولیس کی ہمت اور جرأت کی طرح ڈانواں ڈول ہو رہے تھے اور اِسی کے انداز میں نابیناؤں کی طرح ہاتھ ہلا ہلا کر گویا ہوا میں سے خودکش بمبار پکڑنے کی کوشش کر رہے تھے۔ بینکار غنڈے بہت بے دردی سے ہاتھ، پیر اور جوتوں اور باتوں سے خالو کی مدارات کر رہے تھے۔ دے مار ساڑھے چار کا یہ فلمی منظر دیکھ کر خالہ اوّل کے اندر برسوں سے دبی وہ خون آشام چڑیل جاگ اُٹھی، جس کے سر پر انتقام کا امریکی صلیبی جنگی بھوت المعروف ’ نِکّا بُش ‘ سوار تھا۔ وہ سب کچھ جو برسوں سے نہ کہا اور نہ ہی کرسکیں، ایک دَم ممکن نظر آنے لگا، کم بخت مردود ، میرے مرد کو نامرد کرنے پر تلے تھے۔ آس پاس کھڑے تماش بینوں کو خالہ اوّلین کی شیرنی جیسی دھاڑنے اپنی طرف متوجہ کرلیا۔
’او وو و کم بختو! خبردار! اگر کسی نے میرے میاں کی طرف انگلی کا اشارہ بھی کیا تو اس کی خیر نہیں‘۔ بینکار غنڈوں کا سر غنہ اُن کی دھاڑ سن کر اُن کی طرف متوجہ ہوا۔ اِس سے پہلے کہ وہ ہاتھ روک کر منہ سے کوئی لفظ نکالتا، خالہ اوّلین نے دائیں ٹانگ پوری قوّت سے واہگہ بارڈر پر کھڑے لمبے تڑنگے رانگڑ سپاہی کی دُلکی چال کے لمبے ڈگ کی ماننداُس کے مرکزِ ثقل کی طرف روانہ کردی۔ کروز میزائل کی طرح اس ’ٹنگڑی میزائل‘ کاحملہ اپنے ہدف کے عین وسط پر ہی جاکر تمام ہوا۔ اس ناگہانی ڈرون حملے کی برکت سے سرغنہ ’ اوووغ غ غ‘ کی آواز نکالتا ہوا بغیر کسی لگی لپٹی کے اِس حال کو پہنچ گیا کہ اگر بکرا ہوتا تو قربانی کے دنوں میں مُطّوَع و متقّی مسلمان منہ مانگی قیمت پر خرید لیتےکہ دو دانتوں کی اِضافی ویلیو ایڈیشن شرط تو منہ کے بل گرتے ہی پوری ہوچکی تھی۔ موصوف اِس وقت زمین پر اُسی حالت میں پڑے تھے، جیسے شکمِ مادر میں برامدگی کے منتطر وقفے میں سیٹلڈ تھے، یعنی حالتِ حمیل میں ۔ اُن کے منہ سے برآمد ہوتے بے ربط جملے پھر بھی معنی خیز تھے، جن کی مدد سے حاضرین کو اطلاع ہوگئی کہ اب اُن کی فیملی کسی پلاننگ اور سبز ستارہ شناسی کے بغیر بھی آگے نہ بڑھ سکے گی۔ پولیو کے قطرے پلائے بغیر ہی اُس کی پیدائشی صلاحیت میں غیر پارلیمانی ترمیم کرکے اُسے غیر مؤثر اور بقیہ عمر کے لیے غیر فعال کر دیا گیا تھا ۔ اِسی دوران چھوٹی خالہ نے میاں داد کی نقاّلی کرتے ہوئے زمین پر پڑے مضروب خالو کی کسی وکٹ کی طرح حفاظت کرتے ہوئے ، ان کے چاروں طرف شارجہ والے اسٹروک کھیلنے شروع کردیے۔ ملیر میں امّاں کےیہاں لکڑی کا پھٹّا پکڑ کر دھنائی کر کے کپڑے دھونے کی مشق خوب کام آرہی تھی۔ حالاں کہ اِنہوں نے بہت چاؤ سے بڑھائے ناخن اورہا تھ کی جِلد بچانے اور پریوں کے دیس سے ہنڈا ففٹی میں بیٹھ کر آنے والے کسی شہزادے کے چکر میں جان چھڑانے کی بہت کوشش کی، مگر امّاں کی جنّاتی مزاج پُرسی سے ابّا تو بچے نہیں ، بِٹّیا کس کھیت کی مولی تھی۔ خالہ دوم اور خالہ سوم بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں، بلکہ بلے بازی سے مضروب بینکار غنڈ ے جب عدم اعتماد کا شکار حکومت کی طرح راستے کا پتھر بن کر زمین پر گرتے تو دونوں خالاؤں کی لاتوں کی فٹبالی پذیرائی سے بھرپورمستفید ہوتے اور پھر دونوں فاتحانہ انداز میں چیئرگرلز کی طرح ایک دوسرے سے ہائی فائیو کرتیں، مگر کولہے نہ مٹکاتیں کہ حیا مانع تھی۔ راتوں رات وفاداری بدلنے والے ارکان اسمبلی کی مانند اِس معرکے کا بھی نقشہ بدل گیا تھا۔ چاروں سود خور غنڈے ’کوئین لطیفہ‘ سائز کی پنجابن ہیروئن کی طرح زمین پر ہی پڑے ہوئے ناگن ڈانس کرتے مٹک مٹک کر جان بچانے کی کوشش کرتے، مگر اِن بیبیوں کی طبعیت سیر نہ ہو رہی تھی۔

خالہ اوّل نے تو پہلے حملے میں ہی مخالف کو زیر کرنے کے بعد خالو کی طرف توجہ کی، جن کے ماتھے سے خون کی ایک لکیر گالوں سے ہوکر گردن تک جارہی تھی۔ اوپری ہونٹ دائیں گوشے سے زخمی تھااور گریبان کے سارے بٹن ٹوٹ چکے تھے۔ اُن کے ہوش گم، مگر سانس چل رہی تھی۔ خالہ نے اُن کا سر اپنی گود میں رکھ لیا اور غور سے اُن کے چہرے کی طرف دیکھا جو دُھول میں اَٹا ہواتھا۔ آج کئی سالوں کے بعد اِس قدر قریب سے یک ٹک نظر جماکر چا ہ سے اُن کو دیکھنا نصیب ہوا تھا۔ اُن کے بکھرے اور اُلجھے بالوں میں انگلیاں بسائے شاید صدیاں بیت چکی تھیں۔آج خالو کا لمس اُنہیں بہت اجنبی محسوس ہو رہا تھا۔ شاید ویسے ہی جیسے کوئی عورت پہلا بچہ جَن کر چھٹی نہانے کے بعد کنوارے بدن کے پُرانے کپڑے پہننے کی کوشش میں محسوس کرتی ہے کہ اپنا توہے، پر اپنا نہیں سکتی۔ خالہ کی نظر اور توجہ صرف خالو پر ہی مرکوز تھی ،شاید اِسی لیے اُنہیں آس پاس سے آوازیں آنا بند ہوگئیں تھیں۔ نظر کے سامنے ایک پردہ سا کھچ گیا تھا، جس میں گزرے ہوئے ماہ وسال منظر بہ منظر گزر رہے تھے۔ ابّا کے گھر میں پہلی بار اُن سے نظر چار ہونا، ’ٹی روژ‘ کے پرفیوم سے خوشبومیں بسا پہلا خط پڑھتے ہوئے کپکپاتے ہاتھوں سے حلق ترکرنے کے لیے بار بار پانی پینا اور پھر رہ رہ کر چاندی کے اُسی پیالے میں اُنگلیاں ڈبو ڈبو کر تپتے ہوئے چہرے پر پھیرنا، دسمبر میں ہلکے نیلے رنگ سے سوئٹر بُن کر چپکے سے اُن کی موٹر سائیکل سے باندھ کر گھر کی چھت کی با ؤ نڈری وال پر لگی جالیوں سے چھپ چھپ کر اُن کو حیران ہوتا دیکھنا۔ اس کونڈوں والے دن کھیر کی پرات کو شرارتاً خوب لبریز اور بھاری کرکے اُن کو پکڑواتے وقت جب دونوں کی نظریں ٹکرائیں تو اِن سے بھی بڑھ کر شرارتی خالو نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اُ ن کے ہاتھ سے اِس وزن کو لینے سے صاف انکار کر دیا، جب تک کہ زندگی بھر ساتھ نبھانے کا عہد و پیمان نہ لے لیا۔ اسی لمحے کی منتظر خالہ جب اِس وزن کو سہار نہ سکیں توبنا کوئی جواب دیے بس نظریں نیچی کرلیں، غلافی پلکیں کیا گریں کہ خالوپوری آب و تاب سے نظر وں میں سما گئے، شرم کے مارے چہرہ گلال ہوا جاتا تھا۔ خالو نے آگے بڑھ کر اپنے ہاتھ اِس طرح اِن کے ہاتھوں پر رکھ دیے کہ چاندی کی بھری پرات کے وزن کے ساتھ ساتھ پھول سی نازک خالہ بھی اُن کے دل میں اُتر آئیں۔ انہیں یاد آیا، جب ایک دن خالو نے بتایا کہ اگر اُس دن تم مجھے ٹھکرا دیتیں تومیں جان سے چلا جا تا، تو اُنہوں نے بے تاب ہو کر اُن کے منہ پر اپناہاتھ رکھ دیا تھا۔ آج بھی بے خوابی کے باعث دیر تک تنہاجاگتی خالہ جب ہتھیلی پر نظر کرتیں تو اندھیرے میں خالو کے لبوں کے غیر مرئی نشان روشن نظر آتے۔ انہیں یادآنے لگا تھا ، برسوں پہلے جب نازیہ حسن کا پہلا گانا ’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘ ایک عالم میں مشہور ہوا تھا تو دن رات اِس گانے کو ہی گنگنانے میں صرف ہوتے۔ اس گانے کو سننے کے شوق میں صبح ساڑھے سات بجے ہی چپکے سے آل انڈیا ریڈیو ٹیون کر کے بیٹھ جاتیں اور پھر دن بھر امّاں کی صلواتیں سننی پڑتیں۔ پھر ایک دن پائیں باغ میں ہلکی برستی بارش میں پہلی ملاقات ہوئی اور اِسی ملاقات میں خالو نے کتنی بے باکی سے اُن کا ہاتھ پکڑ لیا تھا اور اُن کی ہتھیلی پر اپنی شہادت کی انگلی سے اپنا نام لکھا تھا۔ اس کے بعد کئی دن تک جب دونوں ہتھیلیوں میں پانی جمع کرکے اپنے چہرے پر چھپاک سے مارتیں تویوں لگتا کہ جسے چاہا اُس کا لمس گالوں کو چھو رہا ہے،خود سے اتنی شرم آتی کہ آئینے کا سامنا کرنے کی ہمت بھی نہ ہوتی۔ گلابی ہتھیلی پر یہ غیر مرئی تحریر نہ خالو دیکھ سکے اور نہ خالہ پڑھ سکیں ، پھر نہ جانے کیسے ہتھیلی سے یہ نام دل پر یوں ثبت ہوا جیسے پتھر پر لکیر، بہت کُھرچا مگراَنمٹ ہی رہا، بس وہ خود ہی وعدوں اور مرادوں کے گورکھ دھندے میں اُلجھ کر خود مٹ گئیں۔ یادوں کی طلسمی جھڑی لگی ہوئی تھی اور جہانِ خیال میں صرف وہ خوشیاں اپنا جلوہ دکھا رہی تھیں جو اِن دونوں نے ایک دوسرے کو مختص کر رکھی تھیں۔ کوئی تلخی، کوئی دُکھ، کوئی شکوہ اِس منظر نامے میں جگہ نہ پا رہا تھا۔ حیرت بہت حیرت کہ عورت کے دل کی وسعتوں کو عقل سمیٹ نہیں سکتی۔ دنیا جہاں سے بے خبر خالو کے چہرے پر نظر جمائے وہ ایک وجدان کی سی کیفیت میں تھیں۔اُن کے دل کے مدوجزر سے بے خبر آس پاس کھڑے دیکھنے والے سمجھ رہے تھے کہ بڑی بی کا صدمے سے دماغ چل گیا ہے، اسی لیے بت بنی مسکراتی ہوئی بڑے میاں کے چہرے پہ نگاہ جمائے گونگی، بہری، بے حس بیٹھی تھی۔
پولیس سے پہلے ہی ایمبولینس پہنچ چکی تھی، جس میں حملہ آوروں کو ڈنڈا ڈولی کرکے سوار کیا گیا تھا،کیوں کہ اُن میں سے کوئی بھی اپنے ذاتی اعضاء پہ بیٹھنے اور کھڑا ہونے کے قابل نہ تھا۔ چاروں بینکار غنڈوں کو چھوٹی سی ایمبولینس میں پیپسی کے کریٹ کی طرح اُوپر تلے ایسے لوڈ کرکے روانہ کردیا گیا تھا، جیسے کمزور ایمان والے موسمی نمازی مسجد کے دا خلی دروازے کے باہر چپل میں چپل پھنسا کر چوری سے بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ سرغنہ کی شکمِ مادر والی اُکڑوں، یعنی حمیل پوزیشن میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی، مگر آواز بند تھی۔ شاید گھر والی کی تسلّی کے لیے اپنے فیوز اُڑنے کا کوئی جینیئن عذر سوچنے میں مصروف تھا۔ بیچارہ سودخور بینک کا نمک خوار پہلے ہی بندے کا پُتّر نہ تھا اور اَب آئندہ زندگی میں نہ پُتّر کے قابل بند ہ رہا!

فیس بک تبصرے

تبصرہ شدہ

تبصرے کے لیے دبائیں

  • واہ کیا محبت ہوتی تھی اس زمانے میں
    نہ فیس بک نہ واٹس ایپ نہ پاسورڈز دنے کی جنجھٹ
    کتنا خلوض اور سادگی تھی اس زمانے نے افئیرز میں

    پہلے بھی پڑھی ہے آپکی یہ تحریر مگر آج بھی پڑھ کر ایسا لگا جیسے پہلی بار پڑھی ہے

    شاندار ، زندہ باد ، زبردست