حمد باری تعالیٰ

توازن بہتر ہے :عارفہ رانا

.
8مارچ عالمی یوم خواتین کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس کی ایک تھیم مقرر کی جاتی ہے۔ جو اس کو شروع کرنے والی تنظیم کی طرف سے مقرر کی جاتی ہے ۔ 2019 کی تھیم ہے
batter to be balanced
توازن بہتر ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس سال کی یہ تھیم اپنے اندر بہت گہرا پیغام لیے ہوئے ہے۔ توازن اس کائینات کا اصول ہے لیکن ہم اس سےبہت دور ہو گئے ہیں شدت پسندی،من مرضی، انتہا پسندی اور خاندانی اقدار سے دوری اس کی وجہ ہیں ۔ یہ وجوہات میں پاکستان کے ماحول کو مدنظر رکھتے ہوئے گنوا رہی ہوں۔۔۔۔۔۔
بہت سے حلقے ہمارے معاشرے میں ایسے ہیں جو عورت کی آزادی کے خلاف ہیں یا ان کا یہ کہنا ہے کہ عورت کو جو آزادی دی گئی ہے وہ حد سے زیادہ ہے اس قدرآزادی کی ضرورت نہیں ہے۔ اصل میں میری نظر میں دونوں اصناف میں توازن قائم کرنا اصل آزادی ہے مگر اس کے بجائے شائد عورت نے بھی اس کا مطلب کچھ اور لے لیا۔ مغرب کی بے جا تقلید نے اس توازن کو بہت حد تک متاثر کیا ہے۔۔۔۔۔
صنفی تضاد ایک بہت بڑا موضوع بن چکا ہے قومی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر۔۔ اس کا آغاز افریکن ممالک میں خواتین پر ہونے والے مظالم سے ہوا اور رفتہ رفتہ ایک شعور بن کر پوری دنیا میں پھیلتا گیا۔ اس میں خواتین کی ٹریفکنگ ، ریپ، اغوا، غلامی کے طور پر خرید وفروخت، کسی بھی قسم کا تشدد سب کی ممانعت کی گئی اور ہر وہ حق جو انسانی حقوق کے نام پر مردوں کو حاصل ہے وہ عورت کو بھی حاصل ہو۔
صنفی توازن آجکل کے دور میں صرف خواتین کا مسئلہ نہیں ہے، یہ ایک کاروباری مسئلہ ہے.صنفی طور پر متوازن کاروبار، صنفی طور سے متوازن حکومت، صنفی طور سے متوازن میڈیا یعنی میڈیا میں مواقع کے لیے صنفی تضاد کو نظر انداز کرنا چاہیے، ملازمتوں میں صنفی توازن، کھیلوں میں صنفی توازن ایک اچھی اور صحت مند اقتصادیات کو پھلنے پھولنے میں مدد دیتی ہے۔
صنفی توازن دنیاکے نظام کو چلانے کے لئے اجتماعی کاوشیں اور مشترکہ ذمہ داری اس میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے. بین الاقوامی خواتین کا دن جس میں خواتین کی سماجی، اقتصادی، ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کا جشن منایا جاتا ہے.
اب آتے ہیں اپنے ملک کی جانب ۔۔۔۔۔ اسلامی ملک ہے ۔ اسلام نے عورت کو برابری کے حقوق دیے ہیں۔ لیکن ہمارے معاشرے نے خاندانی نظام کے نام پر سب سے بڑھ کر اسلام کے ہی نام پر حقوق سے محروم کر دیا جاتا ہے ۔ میں اس بات کی گہرائی میں ہر گز نہیں جاؤں گی کہ اسلام نے کیا کیا کہا ہے کیونکہ آجکل کے دور میں ہر کسی کا مذہب کو جاننے کا اپنا اپنا نظریہ ہے۔ ہاں البتہ میں فیکٹس اور فیگر پر ضرور بات کروں گی۔ شائد یہ ہی آپ کی سوچ میں صنفی توازن پیدا ہو جائے ۔ اگر سوچ میں صنفی توازن پیدا ہو گا تو ہی معاشرے میں پیدا ہو گا۔۔۔۔
پاکستا ن کا دنیا کے خواتین کے لیے غیرمحفوظ ممالک میں چھٹا نمبر ہے۔۔ ایسا کیوں ہے یہ جاننے سے پہلے ہم یہ جان لیں کہ اس پول کے لیے کن کن چیزوں کی سٹڈی کی گئی ہے۔ اس میں صحت ، معاشرت، مذہب،غیر جنسی تشدد ، جنسی تشدد،تعصبانہ رویہ، اور انسانی سمگلنگ شامل ہیں۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔
پاکستان کا اس سے قبل 2011کی سٹڈی میں تیسرا نمبر تھا اور اب چھٹا نمبر ہے ۔۔ کچھ تو بہتری آئی ہے اور اس کی وجہ آگاہی کا پھیلنا ہے۔۔ لوگوں کا صنفی توازن کو سمجھنا ہے۔۔۔
خواتین کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔۔ اس کی وجہ ہماری معاشرتی سوچ ہے۔۔ فرض کریں ایک خاتون جو ریپ کا شکار ہو کر اپنی شکائیت لے کر تھانے تک آتی ہے سب سے پہلے اس کے بارے یہی سوچا جاتا ہے کہ قصور خاتون کا ہی ہو گا ۔۔ ایسا کیوں ہے ؟ ہم سب سے پہلے یہ کیوں نہیں سوچتے کہ اس کے ساتھ ظلم ہوا ہے ۔ اس کو انصاف چاہیے ہے۔ بنا جانے بنا سوچے اس کے کردار کے بارے ہم رائے قائم کر لیتے ہیں ۔ یہاں وہ مردانہ سپر پاور ہونے کی سوچ کار فرما ہوتی ہے جو بچپن سے ایک لڑکے کے ذہن میں ڈالی جاتی ہے۔ اور یہ سوچ بڑے ہونے کے ساتھ مزید جڑیں مظبوط کر لیتی ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی مرد ایسی ایف آئی آر کروائے جس میں کسی قسم کی سچائی نہ ہو اس پر آنکھ بند کر کے کاروائی کی جاتی ہے۔جبکہ ایسی خاتون کو معاشرے میں بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا ۔۔ کیوں ؟ اس کیوں کا جواب آپ اپنے آپ سے لیں اگر آپ کے والدین نے آپ کو عورت کی عزت کرنا سکھایا تو اس کا جواب آسانی سے مل جائے گا۔۔۔
بہت سے لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہوتا ہے کہ وائلنس اگینسٹ ویمن کا بہت شور مچایا جاتا ہے جبکہ ظلم مرد پر بھی ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقت میں 65٪ سے زیادہ وائلنس شادی کے بعد عورت پر ہوتا ہے۔ اس میں غیر جنسی نوعیت کا تشدد زیادہ ہوتا ہے ۔ جس میں مارنا اور ذہنی اذیت دینا شامل ہوتا ہے۔ یہ سب قابل گرفت ہیں۔لیکن قانون کے عملداری کی کمزوری کے علاوہ ہمارا خاندانی نظام اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کا کوئی سد باب کیا جا ئے۔ ان کو اپنے لیے انصاف کے حصول کے لیے یا اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے خاندان کی عزت کے نام پر روکا جاتا ہے۔
لڑکیاں تعلیم حاصل کرنے میں لڑکوں سے آگے ہیں مگر ان لڑکیوں کو جب نوکری لینے جانا پڑتا ہے تو بہت سے ایمپلائرز ان کی مجبوریوں سےکھیلتے نظر آتے ہیں۔۔ اب یہاں پر آپ کہیں گے کہ ایسا کیسے ہو سکتا ہے ۔ مگر ایسا ہے جناب اگر کوئی خاتون میرٹ پر رکھ ہی لی جاتی ہے تو اس کے ساتھی اس کو ڈس ہارٹ کرنے کا موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے جبکہ اگر کوئی خاتوں گھر کی مجبوریوں کی وجہ سے کمانے نکلی ہو تواس کا جینا انہی رویوں کی وجہ سے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔۔ اب یہاں سوال اٹھتا ہے کہ نوکری پیشہ خواتین اس کا ذکر کیوں نہیں کرتیں ۔۔ تو جناب اس کا جواب وہی رویہ ہے جس کا ذکر میں نے پہلے کیا کہ سوچا جائے گا لڑکی ہی غلط ہے۔
اب تک سب مجھے فیمینسٹ سمجھ رہے ہوں گے۔ جو کہ میں ہر گز نہیں ہوں۔ میرا یہ سب لکھنے کا مقصد اس غیر متوازن سوچ کی نشاندہی تھی جو ہمارے معاشرے میں موجود ہے ۔ جس کی وجہ سے صنفی توازن قائم نہیں ہو پا رہا ہے۔ اوریہی سوچ ہے جس کی وجہ سے اگر عورت آزاد ہو رہی ہے تو اس کی سمت کبھی کبھار غلط ہو جاتی ہے۔ عورت کا معاشرے میں برابری کا حق اس کا بنیادی حق ہے، مگر یہ حق نہ دینا اس کی سمت بدل دیتا ہے ۔ مجھے یہ سوچ بری لگتی ہے جس کا شکار ہماری سوسائیٹی کی عورت ہے۔ عورت کو کمزوری بنا دیا جاتا ہے۔ کسی کی عزت پر حملہ کرنا ہے تو عورت، کسی خاندان کی عزت بچانی ہے تو عورت، تربیت اور خاندان کا بار اٹھانا ہے تو عورت،اگر کسی سے قربانی لینی ہے تو عورت، اگر خدمت گزاری کی مثال بننا ہے تو عورت۔۔۔۔ اصل میں مرد عورت کی ان چھپی صلاحیت سے خائف ہے کہ وہ ہر روپ دھار لیتی ہے یہاں تک کہ خاندان کی عزت تک بچا لیتی ہے اور اگر برابری کے حقوق مل گئے تو شائد مرد پیچھے رہ جائیں۔۔۔۔۔۔۔ عورت کے بارے میں غلط سوچنا غلط سمجھنا اگر ایسے ہی اتنا ہی آسان رہا تو ہم کبھی بھی توازن قائم نہیں کر پائیں گے۔ غیر متوازن معاشرے کبھی ترقی نہیں کرتے بلکہ مزید انحطاط کی طرف چلے جاتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سوچئیے گا ، توازن ہی بہتر ہے اور اس کو قائم کرنے کے ذمہ دار مرد اور عورت دونوں ہیں۔۔۔

فیس بک تبصرے