حمد باری تعالیٰ

الھجرہ سکول: جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے

ہمایوں مجاہد تارڑ

ذکر چھڑا تھا زیارت سے متّصل وادی میں پھوٹے اس چشمہِ علم وتعلیم، ایک ریذیڈنشل سکول “الھجرہ” کی

کارگذاری کا۔ وہاں اپنے پانچ روزہ قیام پر مبنی مشاہدات و تاثرات کا۔ سچ پوچھیں تو وہاں بِتایا وقت گھنٹوں، دنوں اور ہفتوں کے حساب سے ماپنا ناانصافی ہو گی۔ اسے ساعتوں کے حساب سے دیکھنا اور شمار کرنا ہو گا۔ کہنے کی بات نہیں، یہاں آزما دیکھا کہ دوتین کلو گرام خون رکھنے والے انسانی وجود پر گذرتی ہر یخ بستہ ساعت کی گذران اِسے بتا کر گذرتی ہے۔ یہ بندے کو پچھاڑ کر بَھنبھوڑتی ہے، نوچتی اور کھسوٹتی ہے۔ یہ بڑی بے رحم، خون خوار ہے۔ یہ ہر “بہادر” انسان کو بتا کر لپٹتی ہے، جتا کر جکڑتی ہے، تڑخا کر بچھڑتی ہے۔ اس وادی میں نقطہِ انجماد کو چھوتے فریز کر دینے والے درجہِ حرارت میں “دما دم رواں ہے یمِ زندگی” کی مثال بنی اُبلتی، مچلتی زندگی کا نظّارہ یہ باور کرانے کو کافی ہے کہ ہمارے زندہ ہونے کی علامت منہ اور نتھنوں سے پھوٹتی تنفّس کی تپش نہیں، اِس سے ماورا کوئی شے ہے۔ سرد لمحوں کو پگھلا دینے والا کوئی جذبہِ تعمیر، کوئی آتشِ عزم، کوئی چراغِ آرزو۔

الھجرہ سکول کا محلّ وقوع کیا ہے؟ یہاں سے پانچ منٹ کے فاصلہ پر قائداعظم ریذیڈنسی کی عمارت کھڑی ہے جو اہلِ بلوچستان کی بانیِ پاکستان اور وطن سے محبت و عقیدت کی گواہ ہے۔ ایک لازوال علامت! اسی علامت کے سائے تلے یہ ادارہ یوں سر اٹھائے کھڑا ہے جیسے کوئی فوجی بانیِ پاکستان کو سلیوٹ کرتا دکھا ئی دے۔ یہ اُستاد عبدالکریم ثاقب کا کارنامہ ہے۔ جناح ؒ ایسا ہی سلِم اینڈ سمارٹ وجود رکھنے والے اُستاد نے اس سرزمین کے باسی اپنے ہم وطن بھائیوں کی نسلوں کو علم، عمل اور ترقی کی راہ پر گامزن کر دینے کا خواب دیکھا تھا۔ الھجرہ ریذیڈنشل سکول اینڈ کالج اس خواب کی تعبیر ہے — جو اپریل 2004 کو جناح کیمپس زیارت کی صورت جلوہ گر ہوئی۔ سرسبز اور برف پوش پہاڑوں کے دامن میں، صنوبر کے درختوں سے ڈھکی یہ پُرسکون وادی ہی بظاہر ایک موزوں ترین مقام ہے ایسی تعلیمی سرگرمی انجام دینے کو، اگرچہ وِنٹر میں یہاں کا درجہ حرارت برداشت کی ہر حد سے پار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے، دسمبر کے آخریں ہفتہ سے آغاز ہو کر یہاں دو ڈھائی ماہ کے لئے ادارہ بند کر دیا جاتا ہے۔

الھجرہ سکول کیسے آپریٹ کرتا ہے؟ یہاں بلوچستان کے ہر ضلع سے ہر سال دودو ذہین اور مستحق طلبہ کو ساتویں جماعت سے FSc تک ٹیلنٹ سکالرشپ دی جا رہی ہے۔ یوں، اہل بلوچستان کے جوہرِ قابل کو وطنِ عزیز کی باوقار ورکنگ کلاس کا ممبر بنانے کو، بلاشبہہ، یہ ایک قابلِ صد تحسین کوشش ہے جس کے ثمرات کی ایک جھلک راقم نے اس سلسلہِ تحریر کی اوّلین قسط میں دی تھی۔ داخلہ کی بنیادی شرائط کے مطابق طالب علم کی عمر 12 سال سے کم نہ ہو، اور والدین کی آمدن سالانہ دو لاکھ روپے سے زیادہ نہ ہو۔ یعنی ایسے گھرانے جن کی ماہوار آمدن سولہ یا سترہ ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو۔ غریب، مزدور طبقہ گھرانے۔ جبکہ طالبِ علم بلوچستان کے کسی بھی گورنمنٹ سکول سے چَھٹی جماعت پاس کر چکنے کا سرٹیفیکیٹ رکھتا ہو۔ اِن بنیادی شرائط پر پورا اترنے والے طالب علم کو ٹیسٹ اور انٹرویو میں کامیابی کے بعد میرٹ پر داخلہ دیا جاتا ہے۔ الھجرہ ٹرسٹ اِن طلبہ کے قیام و طعام، کتابوں اور سٹیشنری سمیت تمام تر تعلیمی اخراجات کا انتظام مخیّر حضرات اور اداروں کے تعاون سے کرتا ہے۔ آپ بھی اپنے صدقات اور زکوٰۃ عطیہ کر سکتے ہیں۔

سکول کی عمارت کیسی ہے؟ ایک سرسری نگاہ سے دیکھیں تویوں لگتا ہے عمارت کا اکیڈیمک بلاک بازو کھولے خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ مجموعی طور پر یہ ایک عدد اکیڈیمک بلاک، اسمبلی گراؤنڈ، تین عدد پلے گراؤنڈز، رہائشی بلاک، اور ایک مسجد پر مشتمل خاصا وسیع کیمپس ہے جس میں دو طرف سیب اور چیری کے باغات بھی ہیں۔ رنگا رنگ کتابوں پر مشتمل لائبریری ہے۔ ایک عدد خاصی ماڈرن سائنس لیب، انٹر نیٹ کی سہولت سے آراستہ کمپیوٹر لیب، صاف ستھرا مَیس جہاں معیاری کھانا سَرو کیا جاتا ہے۔ ایک مقام پر یکجا یہ سب سہولتیں اِس ادارے کو سرزمینِ بلوچستان کا ایک منفرد و باوقار ادارہ بنائے ہوئے ہیں۔ یوں لگا جیسے بنیادی سہولتوں سے محروم گھرانوں اور جھونپڑوں میں گذر بسر کرتے والدین کی، کسی دُکھیاری ماں کی، اپنے بچوں کے حق میں دل سے نکلی کوئی دُعا ہو جس نے آسمانوں کا سینہ شق کرتے ہوئے عرشِ معلٰی تک رسائی پائی ہو۔ ورنہ ایسے مقام پر ایسا کیمپس؟!!

ہم تین لوگ تھے۔ راقم خود، اسلام آباد سے ہمرکاب ہوئے ایک اور ایجوکیشنسٹ جناب عاصم ندیم اور کوئٹہ کی ایک یونیورسٹی سے بین الاقوامی شہرت یافتہ خطّاط جناب مقصود لاشاری صاحب۔ ہم دن میں بچّوں کو ورکشاپ کی طرز پر کلاسز دیتے، سرِ شام سٹاف سے خطاب کرتے۔رسپانس خاصا جوشیلا تھا۔ باقاعدہ ٹیسٹ اور انٹرویو کے بعد میرٹ پر منتخب ہوئے یہ بچّے، ماشا اللہ، سب ذہین، سمجھدار، تمیزدار بچّے لگےجن میں رکھا پوٹینشل اُن کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ اساتذہ اور باقی سٹاف بے حد ملنسار، خوش طبع و خوشگوار، بہت کوآپریٹو اور اہلِ بلوچستان کی تابندہ روایت کے امین ــــ خوب مہمان نواز!

دسمبر ٹیسٹ ختم ہو چکا تھا، اور اِس ٹرم کا رزلٹ تیاری کے مراحل میں تھا۔ دسمبر کا تیسرا اور سکول کا آخری ہفتہ بحکمِ عثمانی صاحب بطور وَن ویک لرننگ سیشن یا ایجوکیشنل کیمپ کے ڈکلیئر کر دیا گیا تھا۔ اس مقصد کے لئے راقم سمیت ہم تین صاحبان کو دعوت دی گئی تھی کہ تربیتی سیشنز منعقد کریں، نیز سکول اور معیارِ تعلیم وغیرہ کا جائزہ لیں۔ الھجرہ کی تعلیم انسانیت، اسلامیت اور پاکستانیت کی بنیادوں پر ہے۔ ذریعہِ تعلیم اردو، انگلش اور عربی ہے۔ معیارِ تعلیم کا اس سے بڑا ثبوت اور کیا ہو گا کہ ادارے کو 2017 میں بلوچستان ایکسیلینس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

مہمان خانے پر متعیّن خدمت گار نوجوان “حضور بخش” کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ اس کی آنکھوں میں چھلکتی خوئے مہمان نوازی کی دمک بھلائے نہ بھولے گی۔

یہاں پرنسپل کون ہیں؟ ایک ٹِین ایجر ایسی سپرٹ اور تحرّک کے حامل جناب شیر احمد اپنی طبیعت میں ایک مشفق و مخلص، جہاندیدہ و تجربہ کار، نکتہ آفریں، کسی خاص بات پر چونک جانے والے، اور بذلہ سنج شخصیت محسوس ہوئے۔ کتاب اور نت نئے آئیڈیاز سے رغبت ہے۔

الھجرہ سکول کی غرض و غایت کیا ہے؟ یہی کہ اس سرزمین پر غریب خاندانوں کی غربت دور ہو۔ یہ کہ بلوچستان کے جوہرِ قابل کو مواقع میسّر آئیں۔ یہ کہ دلوں اور دماغوں کو تعلیم کی روشنی سے اُجال دیا جائے تو وہ پہاڑ ایسی زندگی میں پانی کی مانند اپنا راستہ خود ہی تراش لیں گے۔ ان بچوں کو علّامہ مرحوم کی اُس شہرہ آفاق نظم کے رسیلے بولوں سے عملاً ہم آہنگ کرنا ہے؛ اُن سب دعائیہ الفاظ کو گویا مجسّم کرنا؛ انہیں مادّی وجود بخشنا:

لب پہ آتی ہے دُعا بن کے تمنّا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری
ہو مرے دم سے یونہی میرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت

درویش صفت CEO یعنی چیف ایگزیکٹو جناب عثمانی صاحب کسی لگژری آفس میں بیٹھ کر اونگھنے اور حکم چلانے والے”باس”نہیں۔ بس نام کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ حقیقت کیا ہے؟ عبدالستار ایدھی مرحوم کیطرح اصل پیشہ جا بجا جوتیاں چٹخاتے پھرنا، گلی گلی گھوم پھر کر بھیک مانگنا، فنڈز اکٹھے کرنا ۔۔۔ بس یہ جنون کہ کسی طور اِن بچوں کے سروں پر تنا یہ سائبان سلامت رہے (درحقیقت، ہر بڑا شخص زیادہ بڑا خدمت گار ہوتا ہے)۔ اِس پر مستزاد ادارے کی اکیڈیمکس اور نوع بہ نوع مسائل کو دیکھنا۔ یہ ایک از حد مشکل، چیلنجنگ نوعیت کا کام ہے۔ فنڈز کی ضرورت یہاں مستقلاً رہتی ہے۔ چار پانچ ہزار روپے عطیہ کرنے کا مطلب ہے آپ نے ایک ماہ کے لئے ایک بچے کا خرچ اٹھا لیا۔ اس کی زندگی میں روشن اس چراغ کی لَو برقرار رکھنے کو ایندھن فراہم کر دیا۔ گویا وینٹی لیٹر پر رکھے ایک وجود کے لئے آکسیجن ارزاں کردی۔

آپ بلوچستان کا ایک وزٹ کریں۔ گھوم گھام کر الھجرہ تک جا پہنچیں۔ وہاں کی صورتحال دیکھ کر احساس ہوتا ہے کوئی موسٰی صفت شخص ہی ان چٹانوں کے سینے پر اپنا عصا مارے تو چشمہ پھوٹے۔ جبھی کہا کہ الھجرہ سکول کا قیام ایسا ہے ـــــــ جیسے پتھر کے کلیجے سے کرن پھوٹتی ہے۔

بہت سمارٹ سٹرکچرڈ ،متبسّم، حلیم الطبع، پُر عزم وجہاندیدہ الھجرہ ٹرسٹ کے فاؤنڈرچیئرمین جناب عبدالکریم ثاقب کو اللہ نے ایسی ہی تاثیر سے نوازا ہے۔ مل کر مزہ آیا۔ اُن کے پاس بیٹھنے کا اتفاق ہو جائے تو آپ ٹرانس میں آ جاتے ہیں۔ وقت گویا تھم سا جاتا ہے۔

فیس بک تبصرے