حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

ایک طوائف کے ساتھ گزرے چند لمحات:محمد عمران تورغر

۔ایک
وہ گرمیوں کی ایک سخت دوپہر تھی ،میں اس بنت حوا کے رو برو تھا جو جسم فروشی کا کاروبار کرتی تھی ،رات کو وہ چونکہ روزی کمانے میں مصروف تھی اسی وجہ سے دن کو ملنا مناسب خیال کیا، ویسے بھی کسی شریف آدمی کو یہ زیب نہیں دیتا کہ کسی کو روزی کمانے کے اوقات میں ڈسٹرب کرے ۔
وہ مجھے گھور رہی تھی شاید میری شریفانہ چال ڈھال اور رکھ رکھاؤ جو اس سے روزانہ ملنے والے لوگوں سے یکسر مختلف تھا اسے حیرت میں ڈال رہا تھا وہ یہ بھانپنے کی کوشش کر رہی تھی کہ کیا میں بھی اسی غرض سے یہاں آیا ہوں جس غرض سے عموما نوجوان یہاں آتے ہیں یا میرا معاملہ کوئی اور ہے؟ البتہ پہلے خیال پر قوی قرائن موجود ہونے کی بنا وہ اب تک پر امید تھی۔ قریب بیٹھی وہ دوشیزہ کچھ کہنا چاہ رہی تھی مگر میری مسلسل بے رخی اسے گھائل کرتی رہی ،لیکن جلد ہی میں بھی کن انکھیوں سے دیکھنا ترک کر کے مکمل ہمہ تن گوش ہو کر اس کی طرف متوجہ ہوگیا۔
میری سوالیہ نگاہ دیکھ کر وہ ٹھٹھک سی گئی ،لیکن امید کے پل ٹوٹنے والے نہ تھے۔
شاید تم مجھ سے کچھ پوچھنا چاہتے ہو اس نے وضاحت چاہی۔
ہاں آپ درست سمجھیں میں نے بھی دکھی آواز میں بولنے کی ہمت کی۔
تو پوچھئے!!!!!!!
اچھا تم اس بے سود و بے کار دھندے میں کیسے آپھنسیں میرے لہجے میں افسردگی تھی۔
اول تو وہ ایک مدت تک سر جھکائے خاموش بیٹھی رہی، اور پھر آسودہ نظروں سے زمین و آسمان ناپنے لگی، مجھے لگا کہ شاید وہ میرے سوال سے بری طرح ٹوٹ چکی ہے، لیکن وہ منہ اٹھا کر اس طرح روئی کہ اس کے چہرے پر سے اداسی ٹپک پڑی ،اور پھر مسکرا کر ٹھندی آہ بھرتی ہوئی بولی۔
عشق……عشق……….عشق ہو گیا تھا، اور محبت میں اندھی ہوکر پالنے والے باپ اور تکلیف اٹھانے والی ماں کی پرواہ نہ کی اور گھر سے بھاگ گئ.
کچھ دن تو محبوب نے چار دیواری میں میرا زیب تن لباس اتار کر خوب محبت کی، لیکن مجھے معلوم نہ تھا کہ جو شخص پالنے والے والدین کا نہ ہوا بھلا وہ میرا کیونکر ہو سکتا ہے اور ہوس کا بوجھ اتار کر مجھے ایسی حالت میں چھوڑا کہ نہ تو سر ڈھانپنے کو چادر رہی نہ زندگی بسر کرنے کو چھت کا سایہ۔
اس سے پہلے کہ میں سوال کیلئے زبان کو حرکت دوں اس نے اضافہ کیا :
واپسی کا ارادہ کیا تو دل میں خیال آیا کہ بھاگنے کا ارادہ تو میرا اپنا تھا،اب واپس گئی تو والد کی بچی کچی عزت کو بھی لوگ تار تار کر کے رکھ دیں گے اور رہنے کو بس ایک ہی جگہ ملی جہاں مجھ جیسی ہزاروں لڑکیاں جسم کو ذریعہء معاش بناکر زندگی بسر کرتی ہیں ۔
والدین معاف تو کر سکتے ہیں میں نے سوال داغا۔
وہ مسکرا کر بولی ارے معاف تو خدا بھی کرتا ہے، لیکن ڈر آس پاس والوں کا ہے۔
لڑکی قدم اٹھا کر لڑکھڑا جائے تو دنیا غلطی اور لغزش کو بھولنا نہیں چاہتی، میں نے تو منہ کالا کیا اب خیر کی توقع کس سے رکھوں؟
چلو بھیک مانگنا تو اس سے بہتر تھا میرے سوال میں کچھ ہچکچاہٹ تھی۔
جواب میں تو مجھے سر تا پا لمحہ بھر میں ناپ چکی تھی، ارے سادے تم وہ باتیں کرتے ہو جو زندہ دل اور خوشحال لوگوں کے دلوں میں رچ بس گئی ہیں ،یہ کتابوں میں لکھی ہوئی باتیں ہیں یہ مسائل صرف پڑھے جاتے ہیں رٹے جاتے ہیں ، کوئی کسی بھکارن کو چھونپڑی میں سر ڈھانپنے کی جگہ دینے کیلئے تیار نہیں ،عزت بیچ کر عزت سے تو رہ لیتی ہوں نا؟
اپنا گھر ،اپنا بستر ہی عزت ہے، یہاں تو عزت پیسے کی ہے انسان کی اوقات ہی کہاں ہے؟
جس کام میں میں مبتلا ہوں دنیا کے ہزاروں لوگ اس میں سر عام مبتلا ہیں ،لیکن ان کے پاس پیسہ ہے جو ان کی برائیوں کو ڈھانپ لیتا ہے۔
دنیا تو منافقوں سے بھری ہے ،دوغلے پن والے اکثر کامیاب رہتے ہیں،یہ جو نیکی کا درس دیتے ہیں اندر سے اکثر خالی ہوتے ہیں۔
کسی نازک کنواری کو دیکھ کر سنت تو ہر خاص و عام زندہ رکھتا ہے لیکن کسی مولوی کو بھی یہ کہا جائے کہ طوائف سے شادی کر کے سنت زندہ کر لو تو وہ بھی اس وقت سنت کی قسمیں گنوا کر چل بستا ہے۔
یہ شادی کے طریقے آزما چکی ہوں ،لیکن کوئی میرا آسرا بننے کیلئے تیار نہ تھا ، صوفی تبلیغی اور مولوی ، لبرل اور روشن خیال اپنی حدیثیں ،اپنے مفروضے بھول گئے تھے ۔
تب میں سمجھی سنت کو زندہ رکھا جاتا تو مجھے بھی اہمیت دی جاتی یہ جو نو خیز دوشیزہ کو دیکھ کر رگوں میں دوڑتا ہے یہ سنت کا جذبہ نہیں ،ہوس کی پرستش ہے، اب اس کا رخسار بھیگ چکا تھا اور آنسو گریبان سے تجاوز کرچکے تھے وہ اپنی غلطی کا اعتراف کرنے ہی لگی تھی کہ اس کی بات کو کاٹتے ہوئے میں گویا ہوا:
یہ محبت کیا ہے؟
کہنے لگی ایک دھندہ ہے، ایک نشہ ہے اور وقتی چسکہ ہے، یہاں محبوب بہت تھوڑا سرمایہ لگاتا ہے اور پھر محبوبہ کے جسم سے کھیل کر سود سمیت واپس لے لیتا ہے، اور لڑکی تو اسی کی رحم و کرم پر ہوتی ہے ،چاہے شادی کرلے چاہے چھوڑ دے۔
لیکن جن کی محبت سچی ہوتی ہے وہ رسوا کبھی نہیں ہوتے وہ محبت کو نکاح کا نکیل ڈال دیتے ہیں اور نکاح کے راستے پر چل کر وہ محبت کو نئی نویلی دلہن کی صورت دے کر پیار ،عشق اور محبت کی دنیا پرتادم بسیرا کرتے ہیں۔
لیکن سنو !!!
“جو لڑکی ماں کی ممتا اور باپ کی شفقت سے وفا نہ کر سکی وہ تجھ اجنبی سے وفا کیسے کر سکتی ہے”

فیس بک تبصرے

تبصرے

تبصرے کے لیے دبائیں

  • ما شاء اللہ ۔ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگ بہت کم ہیں جو ان جیسی بھٹکی بہنوں کے لئے بھی نرم گوشہ رکھتے ہوں آپ نے اس ایشو پر قلم اٹھا کر ہمارے سماج کی دکھتی رگ کو چھیڑا ہے۔اس طور پر طوائف سے براہ راست ملاقات کر کے تاثرات اور درد دل سامنے رکھنا دل گردے کا کام ہے۔ ایسا کرنے والا شخص چاہے جتنا مخلص اور پاکدامن ہو چھوٹے ذہن والے اس کو مشکوک نظروں سے ضرور دیکھتے ہیں لیکن آپ ان کی پرواہ کیے بغیر اپنا کام جاری ۔
    جناب شورش کاشمیری نے تو لاہور کی ہیرا منڈی کا مکمل سروے کر کے سینکڑوں طوائفوں کی داستانوں پر مشتمل ایک کتاب جس کا نام اس بازار میں تھا لکھی تھی ۔ اس وقت ان کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا کسی نے کہا ایسی داستانیں چھاپنے سے معاشرے میں اصلاح کی بجائے الٹا بگاڑ آئے گا اور کسی نے کہا کہ اتنی طائفوں سے ملاقات کرنے والا خود کیسے پاک دامن رہ سکتا ہے الغرض جتنے منہ اتنی باتیں یہاں تک کہ بعض سنجیدہ احباب کے مشورے پر انہوں نے اس کتاب کی اشاعت روک دی لیکن کچھ عرصے کے بعد لوگوں کی مخالفت کی پرواہ کیے بغیر دوبارہ اشاعت شروع کر دی
    خود انہی کے بقول:
    شورش تیرے خلاف زمانہ ہوا تو کیا
    کچھ لوگ اس جہاں میں خدا کے خلاف ہیں