حمد باری تعالیٰ

ایک تھی مونا لیزا: محمد جمیل اختر

.
بعض کہانیاں اور ان کے کردار بالکل بھی سمجھ نہیں آتے ، زندگی نے انہیں کچھ اس طور سے برتا ہوتا ہے کہ وہ پیچ در پیچ الجھے ہوئے ہوتے ہیں ، ایسے الجھے دھاگے کہ جن کو آپ الگ کرنا چاہیں تو وہ مزید الجھ جائیں ایسے کردار مجھے بالکل سمجھ نہیں آتے شاید آپ کو سمجھ آجائیں۔۔۔سوسُنیے یہ قصہ۔۔۔۔

دور کہیں بہت دورجہاں گزرے دن اور لوگ چلے جاتے ہیں، اُنہی گزرے دنوں کی بات ہے۔ خیردین کی چار بیٹیوں میں وہ سب سے بڑی تھی ،چہرے پر چیچک کے داغ اور رنگ بالکل سیاہ تھا، دن یوں پر لگا کے گزرگئے کہ گویا کبھی تھے ہی نہیں ، گزرتے وقت کے ساتھ خیردین کی ساری بیٹیوں کی شادی ہوگئی سوائے شمع کلو کے ، وہ ایک ایسی شمع تھی کہ جس کے گرد کوئی پروانہ نہیں تھا، اُس کی ساری گھمن گھیری اپنی ذات ہی کے گرد تھی ، جن دنوں میں نے اُسے دیکھا وہ بے تحاشا بولتی اور ہنستی تھی لیکن وہ ہنسی کچھ اور طرح کی تھی ، ہنسنا فقط دانت دیکھانا تھوڑی ہوتا ہے، رفتہ رفتہ آنکھیں باتوں اور ہنسی کا ساتھ دینے سے قاصر ہوگئیں، آواز کچھ آرہی ہے ، آنکھیں کچھ اور کہہ رہی ہیں ۔ ہونٹ ہنستے اور آنکھیں روتی دیکھائی دیتی تھیں ۔ معلوم نہیں وہ کیسی ہنسی تھی میں شاید لفظوں میں سمجھا نہ سکوں لیکن میں نے جب بھی اُسے ہنستے دیکھا میں اُداس ہوگیا ، غم میں دو طرح کی کیفیات ہوتی ہیں ، بے تحاشا گفتگو یا مکمل سکوت۔

شاید انسان گفتگو کرکے خودسے فرار کی راہ تلاش کررہا ہوتا ہے ، کیونکہ ایک ساتھ آپ کے اندر بھی سوالات ہورہے ہوتے ہیں اور دنیا کو تو بس موقع چاہیئے۔

’’یہ چاند کہ جس کو وہ بچپن سے دیکھ رہی تھی بالکل ویسے کاویسے تھا، ذرا مجال کہ کچھ فرق پڑا ہو، لیکن اُس بیچاری کے بالوں میں چاندی اُتر آئی تھی، اورچاند کو کیا خبر کہ بالوں میں چاندی اُترنے کا کیا مطلب ہوتا ہے۔۔۔۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ شمع چاند کا ٹکڑا تھی لیکن کوئی بھی اُسے اپنے گھر لے جانے کوتیار نہیں تھا کیا آپ یقین کریں گے کہ اُس کے لیئے پینتیس سال تک کوئی رشتہ لے کر نہیں آیا اور جب ایک رشتہ آیا تو وہ ساتھ کے گاؤں کے ایک رنڈوے مراثی کا تھا۔ جس کو اپنے دو بچوں کے پرورش کے لیئے کوئی عورت چاہیئے تھی۔ خیردین کا بوڑھا جسم اس بات کا متحمل نہیں ہوسکتا تھا کہ وہ انکارکرے سو شمع بیاہ دی گئی ۔ ایسی شادیاں شاید ہی آپ نے کہیں دیکھی ہوں جس میں کسی کو کوئی خوشی نہ محسوس ہورہی ہو حتی کہ دولہا دلہن کو بھی شادی کی کچھ خاص مسرت نہیں تھی ۔ وہ بڑی ہی خدمت گزار بیوی تھی لیکن پھر بھی کھانا کم اورمار ذیادہ کھاتی ۔ ہر ذرا ذرا سی بات پر مار۔ ہاں آپ نے ایسی کہانیاں سن رکھی ہوں گی کہ عورتوں پر بڑا ظلم ہوتا ہے لیکن کیا یہ جھوٹ ہے ؟ شمع ایک ایسا خزانہ تھی جو کسی بددیانت کے ہاتھ لگ جائے اور اسے سمجھ ہی نہ ہو کہ اس کا کرنا کیا ہے۔ دو سال بعد اسے کوئی پہچان نہ سکتا تھا کہ یہ کون ہے، اُن دنوں وہ غم کی دوسری کیفیت میں تھی ، مکمل خاموش، صبح اٹھی، خدمت کی ، رات شوہر آیا ، مارکھائی اور چپ کر کے پڑرہے ، اُسے معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ اکیسویں صدی ہے ، سو سینتیس سال کی عمر میں وہ چپکے سے مر گئی۔۔۔۔میں نے کہا تھا نا کہ کچھ کہانیاں اور ان کے کردار بالکل بھی سمجھ نہیں آتے۔۔شمع کا کردارمجھ پر کبھی کھلا ہی نہیں ۔۔۔

مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ شمع کلو کو کون یاد کرتا ہوگا ، اتنی بے قرار اداس آنکھیں یونہی چلی گئیں کیا ؟ ہاں شاید اس کا شوہرجب غصے میں جوتا اتارتا ہو اور آگے کوئی سر نہ آتا ہو تو شاید اسے کوئی یاد بھی آتا ہو۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہانی اوپر ختم ہوگئی ہے ، لیکن بات ختم نہیں ہوئی۔ جس معاشرے میں سیاہ رنگت اور چھوٹے قد کی بدولت رشتے نہ ملتے ہوں ، جہاں محبت میں ناکامی پہ چہرے پہ تیزاب پھینک دیا جاتا ہو وہاں ہنگامی بنیادوں پر تعلیم اور شعور پھیلانے کی ضرورت ہے ۔ لوگوں کو سمجھانا ہوگا کہ انسان کی عظمت اس کی ظاہر کی بدولت نہیں بلکہ اس کی اصل خوبصورتی اس کے اندر کا انسان ہے۔۔۔۔۔

فیس بک تبصرے