حمد باری تعالیٰ

ایک کہانی ہر گھر کی:زارا مظہر

۔
ہمارے پاکستانی گھرانوں میں آ جکل ایک مسئلہ شدت سے سر اٹھا چکا ہے ۔ یعنی بچوں بچیوں کی شادی وقت پر نا ہونا اور پھر بڑھتی عمر کے ساتھ کمپرومائیزنگ رشتوں پہ اکتفا کرنا ۔ اس سلسلے میں بچیاں اور انکے والدین زیادہ متاثر ہو رہے ہیں ۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ ایک ناسور کی طرح پھیل چکا ہے اور گھن کی طرح جوانیوں کو کھا جاتا ہے ۔ اس مسئلے کی باریکیوں اور نزاکتوں سے معاشرے کا تقریبا ہر طبقہ آ گاہ ہے ۔ اس لیئے آ ج اس مسئلے کو چھیڑے بغیر مگر اسی سلسلے کو لیکر آگے بڑھتے ہیں ۔
اہم مسئلہ جو ہماری انتہائی توجہ کا منتظر ہے اور جس کا خوش اسلوب ممکنہ حل ہماری بچیوں اور ماؤں کے ہاتھ میں ہے اس پہ کوئی توجہ نہیں دیتا ۔ آج اس پہ بات کرتے ہیں ۔
دیکھا گیا ہے کہ جب ہزار دِقتوں ، بے فائدہ تعویذ دھاگوں ، وظیفوں وغیرہ کے بعد مگر اللہ کے فضل و کرم سے کسی لڑکی کا گھر بس جاتا ہے ۔ تو لڑکی اپنی شادی شدہ زندگی کے چراغ کو خود ہی تیز آ ندھیوں کے سپرد کئے رکھتی ہے اور ذیادہ تر کیسوں میں والدہ محترمہ گھر کے سربراہ کے علم میں لائے بغیر بچی کا ساتھ بھی دیتی ہیں اور ہلا شیری بھی ۔۔۔ وہ کیسے ؟
وہ ایسے کہ گھر بستے ہی لڑکی کو اور اسکی ماں کو لڑکے میں اور اسکے گھر والوں میں عیب ہی عیب نظر آ نے لگتے ہیں ۔ لڑکی پورا زور یہ ثابت کرنے پہ لگا دیتی ہے کہ میرے لیئے تو رشتوں کی لائین لگی تھی بس نصیب پھوٹ گئے میرے ۔ میرے بہنوئی میرے شوہر سے ذیادہ اچھے اور قابل ہیں ۔ جبکہ دوسری طرف بہن بھی یہی کہہ کر اپنے گھر میں فساد ڈال رہی ہوتی ہے ۔ میرے میکے والے انتہائی شاندار اور اچھی تربیت یافتہ لوگ ہیں سسرال میں تو جاہل بستے ہیں ( جی ہاں جاہل اور گھٹیا لوگوں کی پسند اعلی کیسے ہو سکتی ہے جبھی تو آ پ گھٹیا بی بی کو پسند کر کے ہزار نخروں سے اپنے گھر میں لا بسایا )۔۔۔ بہت ہی کم کیا تب بھی اپنے گھر کا پورا ایک کمرہ آ پکے حوالے کر دیا ۔۔۔ ورنہ اس سے پہلے وہ کمرہ گھر کے تمام ممبر مشترکہ مقصد کے لیئے استعمال کر رہے تھے ۔۔ اپنے بھائی بیٹے کو آ پ کو سونپا ۔۔۔۔ ( حسبِ معمول معاشرے کی درمیانہ کلاس پیشِ نظر ہے ) اور لڑکیاں اپنی ماں سمیت یہ سمجھ رہی ہوتی ہیں کہ ایک الّو کا پٹھا مل گیا ہے چوبیس گھنٹے کا ملازم ۔۔۔ اب حکم چلاؤ بس ۔۔۔۔ ایسی لڑکیوں سے میرا سوال ہے کہ ذرا بتائیں گھر کو بنانے میں ۔۔ گھر داری بسانے میں آ پکا کتنا ہاتھ ہے۔ کون سے پاپڑ بیلے ہیں آ پ نے ۔
شادی ہوتے ہی لڑکی کو ایک کاٹھ کا الو مل جاتا ہے ۔ اداسی کے نام پہ میکے کے چکر ہی ختم نہیں ہوتے اور وہ تھکا ہارا بیچارا ہر وقت دل و جان سے راضی رہتا ہے ۔ بھئی مساں مساں تو شادی ہوئی ہے اب اپنے گھر میں دل لگاؤ ۔۔۔ مگر جس نے بچیوں کا سمجھانا ہے اور جس کی بات بچی سمجھتی ہے وہی تو اسے نت نئے گُر سکھا رہی ہوتی ہے ۔ یہ بہانہ مارو اور چار دن سکھ کے سانس میکے میں لے جاؤ ۔( یہ بات ماں یکسر فراموش کر دیتی ہے کہ اسی بیٹی کی موجودگی سے آ پ کا اپنا سانس بند ہوا پڑا تھا ) سسرال والے بیچارے تو قصائی ہیں اور سانسیں پینے کے لئے ہی چاؤ سے بہو لائے تھے ۔
یہ ایک سامنے کی بات ہے اور روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ گھر داری بسانا اگرچہ لڑکا لڑکی دونوں کا فرض ہے مگر اس میں زیادہ ہاتھ اور حصہ لڑکی کا ہوتا ہے ۔ اسے یہ موقعہ ملتا بھی زیادہ ہے لڑکے سارا دن گھر میں نہیں ہوتے ۔ اور نیا شادی شدہ لڑکا ویسے ہی بھڑوں کے چھتے پہ بیٹھا ہوتا ہے ۔ ایک طرف بند کمرے میں بیوی کے شکوے ، رونا دھونا اور ناز و ادا ۔ ایک طرف ماں بہنوں کے شکوے ۔۔۔ بیٹا ، بھائی بدل گیا ہے تعویذوں کے اثر میں ہے ۔ روزی روٹی کمانے کے مسائل الگ سے ۔۔۔ اور سب سے بڑا چھّتہ تو ساس کا ہے ہر ملاقات پہ احساس دلاتی ہے کہ اپنی لاڈو ، نازوں پلی تم جیسے ناقدرے کے حوالے کر دی ۔ جاؤ بھیا اپنی ماں بہن کو سمجھاؤ پھر اپنی بیٹی تمہارے ساتھ بھیجوں گی ۔ اتنی بڑی تو تمہاری فیملی ہے ۔۔۔۔ او خدا کی بندی ۔۔۔۔ یہ بڑی فیملی اس وقت نظر نہیں آ ئی تھی جب رشتہ طے کر رہی تھیں آ پ ۔۔۔ لڑکے کے بہن بھائیوں میں اب کوئی نیا اضافہ تو نہیں ہوگیا ۔ ہراسانی میں چھوٹی بڑی سالیاں بھی پیش پیش ہوتی ہیں ۔ جو بوجھ آ پکی چھاتی پہ دھرا تھا اور آ پکی نیندیں اڑانے کا موجب تھا وہ اس بیچارے کے گھر والوں نے بانٹ کر گویا جرم کا ارتکاب ہی کر دیا ہو ۔ اس وقت وہ یہ بات بالکل فراموش کر دیتی ہیں کہ ہزار دِقتوں سے بلائے گئے کچھ رشتوں میں سے بہترین کا انتخاب کیا تھا ۔ بیٹی کی رخصتی کے ساتھ ہی لڑکے میں کیڑے پڑ گئے تو گویا اس طرح آ پ بلواسطہ طور پہ تسلیم کر رہی ہوتی ہیں کہ آ پ کی بیٹی ہی وہ کیچڑ ہے جس نے لڑکے کو لت پت کر دیا ۔۔۔
اب ہوتا کیا ہے کہ جب لڑکیاں اپنے گھر کی چھوٹی سے چھوٹی بات والدہ صاحبہ کو جا کے لگائیں گی اور ایک گھرسے باہر کا فرد( لڑکی کی ماں ) گھر کے مسائل میں دخل دے گا تو گھر والوں کو برا لگنا ایک فطری عمل ہے ۔ جھگڑے بڑھ جاتے ہیں ۔ عموماً دیکھا گیا ہے اس معاملے میں لڑکوں کا ظرف بہت اعلی ہوتا ہے وہ چاہے کم پڑھے لکھے بھی ہوں سسرال گھر کی خرابیاں اپنے گھر میں ڈسکس نہیں کرتے اور ناہی بیوی کو طعنے دیتے ہیں کہ تمہاری بہن یا بھائی میں یہ یہ خرابی ہے ۔۔۔ جبکہ بڑی بڑی ڈگری ہولڈر لڑکیاں بھی ایک کی چار لگا کے گھر کی پرائیویٹ باتیں باہر نکال دیتی ہیں اور میاں کے منہ پر تبصرہ کرتی ہیں کہ میں ہی ہوں جو تمہارے ساتھ گزارا کر رہی ہوں ۔ تمہارے بہن بھائی اور ماں چاہتے ہی نہیں کہ میں اس گھر میں رہوں ۔ بس
تم مجھے الگ گھر میں رکھو ورنہ یہاں رہتی ہے میری جوتی ۔ سسرال میں ذرا کام کا بوجھ بڑھا نہیں میکے سے بیٹی کو بلاوے کا ضروری فون آ یا نہیں ۔
ایک اور برائی جس پہ روشنی ڈالنا ضروری ہے وہ یہ کہ شادی کے فوراً بعد لڑکی کی ماں کی کرم فرمائیاں اور مہربانیاں وقتاً فوقتاً شروع ہو جاتی ہیں یہ چیز وہ چیز ۔۔۔۔۔ اس بہانے ، اس بہانے بڑھ چڑھ کر دی جارہی ہے ۔ یہ سخاوت دکھانے کا جب موقعہ تھا تب دکھائی ہوتی ۔۔۔ اب بچی کو جھوٹ بولنے کا رستہ نا دکھائیے ۔۔۔۔ لڑکی نے ا پنی مرضی سے شاپنگ کر لی ۔۔۔ اپنے شوہر کی کمائی سے کچھ لیا ہے تو یہ مان بھی اسے دیجئے کہ وہ آ پکے ارمان پورے کر سکتا ہے ۔ جھوٹ بول کر اپنی دنیا اور عاقبت نا خراب کیجیئے ۔ اور لڑکوں کو نصیحت ہے کہ وہ زبردستی بیوی کو تنبیہ کر دیں کہ اب تم میری ذمہ داری ہو میری کمائی میں گزارا کرو مجھے سسرال کی مہربانیاں پسند نہیں نا میں اپاہج کہ کما نہیں سکتا ۔۔۔ پھر دیکھئے وہی اشیاء آ پکا نام بلند کرنے کے کام آ ئیں گی ۔
لڑکیوں کو اتنی سمجھ ہونی چاہئیے کہ وہی لڑکی اپنے میکے اور معاشرے میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہے جو اپنے گھر میں رستی بستی ہے ۔ ایک لڑکی اور عورت کی شان اسی میں ہے کہ اپنے شوہر کے جَلو میں چلے اور اپنے سسرالی رشتوں کا دل جیتنے کی کوشش کرے ۔ ناکہ کہ روزانہ ہی میکے کی دہلیز پکڑے رکھے اور وہاں کے مسائل سلجھانے میں وقت برباد کرے ۔ اگر ایسا ہی تھا تو شادی کے لیئے کیوں پاپڑ بیلے وہیں رہتی رہتیں ۔ اگر میکے کا کاروبار آ پکے بغیر نہیں چلتا تو یہ بات پہلے ہی سے معلوم ہوتی ہے ۔ گھر بسانے کے خیال کو دل سے نکال دینا چاہیے ۔۔۔۔ اب اس کا مطلب خدانخواستہ یہ بھی نہیں ہے کہ آ پ میکہ بھول ہی جائیں نہیں بلکہ ایک مہمان کی شان سے جائیں اور عزت کر کے ۔۔۔ کرا کے اپنے گھر لوٹ آ ئیں ۔ معاشرے میں بھی عزت قائم رہتی ہے اپنا دل بھی مطمئن رہتا ہے اور آ پکے گھر والے بھی خوش و خرم ۔

نوٹ ۔۔۔۔ یہ تصویر کا ایک رخ ہے ہم سب جانتے ہیں کہ ہر جگہ ایسا نہیں ہوتا مگر یہ معاشرے کے ایک عمومی مزاج پہ بات ہو رہی ہے ۔

فیس بک تبصرے

زارا مظہر

تبصرہ شدہ

تبصرے کے لیے دبائیں

  • بہت عمدہ طرزِ بیاں…اور موضوع بھی حقیقی اور خُوب…آپ سے درخواست ہے کہ اِس موضوع پر مزید لکھیے…