حمد باری تعالیٰ

افغانستان امن مذاکرات – وسی بابا

یو اے ای میں افغان امن مذاکرات جاری ہیں، افغان حکومت کا وفد مذاکرات کی جگہ سے دور بیٹھا صورتحال کو حیران حیران دیکھ رہا ہے۔ افغان وفد پاکستان سعودی عرب اور یو اے ای سے پوچھتا پھر رہا کہ کیا چل رہا۔ طالبان ترجمان کہہ رہا ہے کہ مذاکرات امریکہ کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق ہو رہے ہیں۔

نام ظاہر کیے بغیر طالبان کے لوگ کہہ رہے کہ امریکی چھ مہینے کا سیز فائر کرانے کے لیے الٹا لٹکے ہوئے ہیں۔ پہلی بار کوئٹہ شوری کے اہم ارکان ملا ہیبت اللہ کے چیف آف سٹاف اور قطر آفس کے لوگ ان مذاکرات میں براہ راست حصہ لے رہے ہیں۔

جو نام سامنے آئے ہیں ان میں قطر آفس کے سربراہ مولوی شیر عباس ستانکزئی طالبان کے مذاکراتی وفد کی قیادت کر رہے ہیں۔ دیگر اہم لوگوں میں طالبان کے ڈپٹی وزیر تعلیم سلام حنفی، دین محمد حنیف ان کے پلاننگ منسٹر، خیراللہ خیر خواہ ان کے وزیر داخلہ، طالبان کے آرمی چیف اور نائب وزیر دفاع محمد فاضل کے علاوہ کابل میں طالبان کونسل کے چیف مولوی احمد اللہ شامل ہیں۔ یہ سب طالبان کے اہم لوگ ہیں۔ ان کا وفد بھاری بھرکم ہے۔

بظاہر پاکستان نے ڈیلیور کر دکھایا ہے طالبان کو امریکیوں کے سامنے لا بٹھایا ہے کہ لو کر لو گل۔ امریکی حسب معمول لچ تل رہے ہیں۔ چین روس ایران سب کو باہر رکھنا چاہ رہے ہیں سعودی قطر کو شامل کرنے کے حق میں نہیں۔ جبکہ پاکستان چاہتا ہے کہ امریکی افغان سنٹرل سوچ کی بجائے ریجنل اپروچ کے ساتھ سامنے آئے۔ کچھ ملکوں کو شامل کر کے کچھ کو باہر رکھ کے کام نہیں چلے گا۔

طالبان بھی کہہ رہے کہ ہم کسی ہمسائے کسی طاقت کو کسی صورت ناراض نہیں کریں گے۔ جنرل باجوہ قطر کا دورہ کر آئے ہیں۔ کچھ خبریں یہ بھی آئی ہیں کہ قطر نے سارے طالبان راہنماؤں کو جو قطر موجود تھے ابو ظہبی نہیں آنے دیا۔ ایسے میں جنرل باجوہ کا قطر جانا اہم ہے۔

مذاکرات میں امریکی مطالبہ چھ مہینے کے لیے ایک لمبا سیز فائر کرنے کا ہے۔ افغانستان میں ہونے والی ستانوے فیصد اور کچھ اندازوں کے مطابق پچانوے فیصد حملے اللہ کے فضل و کرم سے طالبان کرتے ہیں باقی کارروائیاں افغان فورسز اور امریکی ڈالتے ہیں۔
ایسے میں سیز فائر کا مطلب یہ ہے کہ طالبان فارغ بیٹھ کر خارش کریں اور دھوپ سینکیں؟

طالبان کہتے کہ واپسی کا ٹائم فریم دو، افغانستان میں انٹیرم سیٹ اپ لاؤ جس کا سربراہ ہم نامزد کریں گے ہمارے قیدی رہا کرو، ہماری قیادت سے پابندیاں ہٹاؤ کہ وہ کھلا گھوم پھر سکے۔ طالبان انٹیرم
سیٹ اپ کی سربراہی حاصل کرنے کے بعد پہلا کام شرعی عدالتوں کی واپسی بھی چاہتے ہیں۔

ایسے ماحول میں یہ مذاکرات جاری ہیں۔ اچھی خبر یہی ہے کہ بات چیت ہو رہی۔ کوئی تعطل سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود کہ افغانستان کے اندر امریکی اہم اور ایکٹو طالبان قیادت کو مسلسل ڈرون سے نشانہ بنا رہے ہیں۔ افغان طالبان کے اہم جنگی کمانڈر اور قندھار میں طالبان کے ریڈ برگیڈ کے قائم مقام سربراہ شریف اللہ اپنے دو دیگر ساتھیوں سمیت ایک فضائی حملے میں مارے گئے۔

حالیہ چند ہفتوں سے افغان طالبان کے سخت گیر رہنماؤں کے خلاف امریکی اور افغان فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز کر رکھا ہے۔ کچھ دن پہلے مولانا عبدالقیوم روحانی جو کہ غور صوبے کے گورنر تھے مارے گئے۔ ان سے پہلے ہلمند میں طالبان کے شیڈو گورنر ملامنان بھی ایک ڈرون حملے میں مارے جا چکے ہیں۔ ملا منان طالبان کے اہم جنگی مشیر اور کمانڈر تھے۔
سخت گیر فیلڈ کمانڈروں کو ٹارگٹ کر کے سیاسی قیادت سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ یو اے ای کی شمولیت معنی خیز ہے۔ کہا جاتا ہے کہ طالبان کی دبئی میں اہم سرمایہ کاری ہے۔ ان کے لوگ وہاں کاروبار بھی کرتے ہیں اور پراپرٹی بھی انہوں نے بڑی مالیت کی خرید رکھی ہے۔ سعودی عرب کا افغانستان کی مذہبی قیادت پر خاصا اثرورسوخ ہے۔ پاکستان یو اے ای اور سعودی عرب ہی تین ملک تھے جنہوں نے طالبان کی حکومت کو تسلیم کر رکھا تھا۔

طالبان پر اثر رکھنے والے تینوں ملک مل کر ان پر فیصلہ کن دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں ہیں۔ طالبان بھی کسی سیز فائر کی صورت میں انہی تین ملکوں سے ضمانتیں چاہیں گے۔
پاکستان باڈر پر تار لگا رہا ہے۔ اس سے طالبان فائٹر کی کھلی آمدورفت محدود ہو رہی ہے۔ ایسے میں ان مذاکرات پر اک ستم ظریف کا تبصرہ مختصر ہے کہ یہ امن عمل پیس ود فورس، طاقت کے ساتھ امن کا مظاہرہ ہے۔

سترہ اٹھارہ سال سے جاری جنگ طاقت کے ایک کور آرڈینیٹڈ اور مختلف مظاہرے کے ساتھ کس طرح انجام کو پہنچائی جا سکے گی۔ یہ ہی اہم ترین سوال ہے۔ امن مذاکرات کی کامیابی سب کے لیے اچھی خبر ہو گی۔ ان کی ناکامی جنگ کے اگلے مرحلے کا آغاز بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

بشکریہ : ہم سب

فیس بک تبصرے