حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

آپا نہیں رہیں:شاہانہ جاوید

.

لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
آج ایک ایسی ہستی ہم سے جدا ہوئی جو انمول تھی، نہ ستائش کی تمنا نہ صلہ کی پروا، محبت اور دعاؤں کا پیکر، سراپا محبت، مجھے ان سے ملے چار سال کا قلیل عرصہ ہی ہوا تھا لیکن لگتا تھابرسوں کی پہچان ہے، جس وقت ہمیں ان کے بارے میں معلوم ہوا اس وقت وہ بیمار تھیں جگر کا عارضہ تھا وہی موذی بیماری کینسر جو خاموشی سے پھیلتی ہے اور عروج پر جاکر ظاہر ہوتی ہے. اس سے پہلے فیس بک پر شمیم پاشا کے نام سے ان کے کمنٹس اور پوسٹس دیکھتے تھے لیکن ہم میں سے زیادہ تر لوگ مرد سمجھتے تھے.
یہ تو سخن پاروں نے شدید بیماری میں انھیں سنبھالا اور علاج کروانے پر راضی کیا اس دن ہم جان سکے کہ شمیم اختر پاشا ایک خاتون ہیں اپنے زمانے کی جانی مانی صحافی، اس وقت کے تقریباً تمام روزناموں اور ہفت روزہ میں لکھنے والی، سیاست دانوں، شاعروں ادیبوں کو قریب سے جاننے والی، جس وقت موڈ میں ہوتیں لاتعداد قصے سناتیں میں اکثر کہتی اپنی یاداشتوں کو قلمبند کرلیں، تاکہ محفوظ ہوسکیں.
یہ سخن پاروں کا ہی کمال تھا کہ آپا کے نام پر سات سمندر پار اور ملک کے اندر رہنے والے متحد تھے ان کی ایک آہ پر لبیک کہہ کر ان کے لیے جی جان سے مدد کو تیار، ان کی بیماری کی خبر ایک دوسرے کو پلک جھپکتے پہنچا دیتے اور دعاؤں کے ساتھ بڑھ کر ان کی مدد کرتے، پھر ان کی صحت یابی کی خوشی میں سب خوش ہوکر ان سے دعاؤں کا خزانہ سمیٹنے میں لگ جاتے. ان سے فون پر بات کرنے والا ان کی آواز کے سحر میں ایسا جکڑتا کہ اس کا نکلنا مشکل تھا. ایسی پیاری آواز کانوں میں رس گھول دیتی ، اور مزے مزے کی پوسٹ لگاتیں کہ سب پھولوں اور پرندوں کے رنگوں میں کھو جاتے. یہ آپا ہی کا کمال تھا کہ وہ ہر ایک کو ایک لڑی میں پرو کر رکھتیں کہ سخن پاروں کی مالا بن جاتی.
دبلی پتلی، دھان پان، سانولا رنگ، باتوں کی دھنی، ہر موضوع پر بلا تکان بول سکتی تھیں، ایسے ایسے قصے سناتیں کہ سننے والے محو ہوجاتے، مجھے بھی موضوعات دیتیں کہ اس پر لکھو، شاید جانے انجانے میں وہ ہماری لکھنے میں تربیت کررہی تھیں. ان کی آواز کی خوبصورتی اور کھنک اب تک کانوں میں گونج رہی ہے. کہاں سے لائیں ایسا میٹھا لہجہ ایسا پیار بھرا انداز
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سوگئے داستاں کہتے کہتے
آپا جس موزی مرض کو جھیل رہی تھیں شاید کوئی اور ہوتا تو کب کا ہمت ہار چکا ہوتا لیکن وہ اس سب کے باوجود اپنے منہ بولے بیٹے، بہو، پوتے پوتی پر جان نچھاور کیے رہتیں، احباب سخن پاروں کے لیے تو ان کا دل دھڑکتا تھا، کوئی مسئلہ ہو آپا کو بتا کر دل ہلکا ہو جاتا. خواتین ممبرز سے تو آپا سہلیوں کی طرح باتیں کرتیں، کھانا پکانے کی چٹ پٹی تراکیب شیئر کرتیں، آپس میں ممبرز میں کوئی بات ہوجائے تو آپا چٹکیوں میں مسئلہ حل کردیتیں اور سب آپا کی بات چوں چرا کیے بغیر مان بھی لیتیں.
آپا نے اردو لغت بورڈ میں پچیس سال ملازمت کی اور وہاں سے رٹائر ہوئیں اور اس وقت بہت خوش ہوئیں جب سخن پارے کے ایک ممبر جناب عقیل عباس جعفری مدیراعلی اردو لغت بورڈ بنے، اس کا اظہار بھی کیا. اکتوبر میں ان کی سالگرہ آتی تھی سب سے پہلی پارٹی انھوں نے سخن پاروں کے لیے کی منع کرنے کے باوجود کھانے کا انتظام کیا اور منیر پٹھان اور اپنی سالگرہ دونوں کا کیک مل کر کاٹا، اس دن سارے سخن پارے جمع تھے آپا سب کے ساتھ ہنس بول رہی تھیں اس دن ہم سب آپا کے گھر مدعو تھے، کہنے کو سب غیر تھے کوئی خون کا رشتہ نہیں لیکن سب اس طرح گھل مل گئے آپا کے خاندان سے کہ غیریت نہ رہی وہ ایک یاد گار دن تھا اس دن ہمیں پتہ چلا حمیرا اطہر اور رئیس فاطمہ جو خود بھی بڑی لکھنے والیاں اور صحافی ہیں ان کی گہری دوستیں ہیں. پچھلے دنوں اردو لغت بورڈ کی تقریب میں بہت خوشی سے شریک ہوئیں اور کافی دیر تک بیٹھیں، بڑی خوش دلی سے تقریب اٹینڈ کی ہمیں بھی بہت خوشی ہوئی شاید یہ آخری تقریب تھی.
ہم سارے سخن پارے سلیم فاروقی، منیر پٹھان، شکور پٹھان، عابد علی بیگ، رفعت علوی، امین ترمزی، معراج جامی، عقیل عباس جعفری، عادل حسن، سعود سلیم، وقار شیرانی، ظل حسنین، احمد صفی، طارق رئس فروغ، امجد حسین علوی، نعیم صدیقی، ماہ جبین آصف، غزالہ صدیقی، راحت عائشہ، زومی ارشد، حمیرا مشیر، تحسین فاطمہ، روزی رضا، شہنیلہ
، گل بانو، حمیرا اطہر اور رئیس فاطمہ ہم ایک دوسرے کو پرسہ شاید ایسے ہی دیں گے لیکن صبر پھر بھی نہیں آئے گا.
رہنے کو سدا دہر میں آتا نہیں کوئی
تم جیسے گئے ایسے بھی جاتا نہیں کوئی

فیس بک تبصرے