حمد باری تعالیٰ

اشتہارات

یوٹیوب چینل

تلاش کریں

کوئی موتیا ہے تو کوئی گلاب- دعا عظیمی

پچھلے کچھ دنوں سے کچھ پوسٹس پر نظر پڑی وہ اپنی انفرادیت میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں تھیں ان میں ایک پوسٹ بشارت حمید صاحب کی تھی جو بہت اچھے لکھاری ہیں اچھی بات کو آگے بڑھانا بھی صدقہ جاریہ ہے کبھی کبھی کسی کی چھوٹی سی بات بھی بڑی الجھن حل کر دیتی ہے۔ ہمارا معاشرہ جس دوڑ میں شامل ہو چکا ہے ایسے میں ہمیں خود کو بھی اچھی بات پر لانا اور بار بار دہرانا لازم ہے ان کے قیمتی الفاظ جن سے ہم سب اتفاق کرتے ہیں۔
لکھتے ہیں ،”اللہ نے ہر انسان کو یونیک پیدا کیا ہے۔۔ بس نوع ایک ہے اس کے سوا ہر کوئی دوسرے سے مختلف ہے۔
ہم ایک کو دوسرے کے ساتھ کمپیئر کرکے غلط کرتے ہیں بنیادی طور پر یہ کاروباری اور مارکیٹنگ کی سوچ ہے۔۔ ایک بندے کا جوتا 6 نمبر ہے تو دوسرے کا 12 ۔۔ اب کاروباری لوگ اس سائز کو ترجیح دیں گے جو اکثریت میں کامن ہے تاکہ انکی محنت کم لگے اور نفع زیادہ ملے۔۔ جس کا 12 ہے اسے اچھا جوتا تلاش کرنا ہی ایک بڑا مسئلہ ہے اب وہ کیا اپنے پیر کٹوا کر چھوٹے کروا لے۔۔۔
ہماری جسمانی ساخت جیسی بھی ہے اس پر ہمیں بہت ہی معمولی سا اختیار ہے وہ بھی صرف زیادہ کھانے کی بنا پر بڑھے وزن کو کنٹرول کرنے پر۔۔۔ جن کا بائی برتھ وزن زیادہ ہو وہ کیسے کم کرے۔۔ اور اسی طرح اگر کسی علاقے میں سارے ہی لوگ زیادہ وزن والے ہوں وہاں پتلے سمارٹ بندے کی کیا جگہ بنے گی۔۔
جب ہر ایک کے فنگر پرنٹ الگ ہیں شخصیت کی خوبیاں اور خامیاں الگ ہیں تو ایک کا دوسرے کے ساتھ تقابل کرنا بنتا ہی نہیں ہے۔
ویسے تو یہ چند سطور ہیں لیکن غور کیا جاۓ تو یہ بہت ہی عقل کشا حقیقت ہے ۔ جیسے دھنک میں سات رنگ ہوتے حالانکہ وہ سفید رنگ سے ہی نکلے ، جیسے پھول طرح طرح کے ہوتے ہیں، کہیں موتیا کھلا ہے تو کہیں گلاب سجا ہے کہیں رات کی رانی کاعجب سرور ہے تو کہیں دن کا راجہ اپنی بہار دکھا رہا ہے ،سورج مکھی حسن بکھیرتا ہے تو کہیں گل دوپہری اور سوسن جلوے بکھیرتا ہے، کہیں میر کا طرز کلام دل کو کھینچ لیتا ہے تو کہیں غالب کا شعر غم حیات و بند غم کا راز کھولتا ہے کہیں اقبال کی بلند شاعری کا آہنگ جغرافیہ بدل ڈالتا ہے تو کہیں میر درد کا صوفیانہ رنگ جوگ کے اسرار آ شکار کرتا ہے، کہیں ملکہ ترنم نور جہاں کا طوطی بولتا ہے تو کہیں مہدی حسن اور لتیٰ جی میڈم اور رفیع اور سینکڑوں دوسرے اپنے اپنے گلے کا جادو جگاتے ہیں اسی طرح سازوں میں ہر ساز اپنی الگ شناخت رکھتا ہے صادقین کی خطاطی دیکھیں تو انگلیاں منہ میں داب لیں چغتائی کے فن پارے دیکھیں تو عش عش کر اٹھیں یہ سب کیا ہے۔۔۔۔یہ سب یونیک نیس یعنی انفرادیت ہے۔ بےشک یہ اپنے درجہ کمال تک پہنچی ہوئئ صلاحیتوں والے لوگ ہیں لیکن یہ ضروری بھی نہیں کہ ہر شخص کو ایسا ماحول ملے کہ اس کی کوئئ صلاحیت درجہ کمال پہ ہی پہنچے ثابت تو اتنا ہی کرنا تھا کہ
انفرادیت ہی حسن ہے ۔ایک دوسرے سے مقابلہ انسانوں میں کمتری اور برتری کے احساس کو بڑھاتا ہے۔ ہم جو بھی ہوں جیسے بھی ہوں سب سے پہلے خود کو عزت دیں کیونکہ ہم خود پہ بہرحال قادر نہیں
۔ پچھلی صدی سے لے کر اب تک یہی انداز سیکھا ہے کہ جب کسی سے ملتے ہیں من ہی من میں تقابلی جائزہ لینے بیٹھ جاتے ہیں نہ صرف یہ کہ خود کو ڈی گریڈ کرتے ہیں بلکہ اپنے رہن سہن لباس بچے ان کے اسکول ان کی گاڑیاں ان کی رہائش لباس برانڈ ہر چیز کا مقابلہ جو انتہای غیر مناسب طرز فکر ہے۔ اس سلسلے میں بشارت حمید صاحب کی سطور نظر سے گزریں تو ایسے لگا جیسے یہی بات گویا ہمارے دل میں بھی تھی بلکہ ایک فلاسفر محترم “جاوید اقبال صاحب “کی ایک دو پوسٹ بھی اسی موضوع پر تھیں جس میں وہ فرماتے ہیں کبھی تم نے دیکھا کہ ایک پھول نے کبھی دوسرے پھول سے مقابلہ کیا ہو یا کسی جھیل نے کہا ہو تم سے زیادہ میں خوبصورت ہوں یا کسی پرندے نے کہ کوے اور کبوتر نے یا کسی جانور نے پھر انسان میں ہی یہ منفیت کیوں پائئ جاتی ہے، ہر انسان خدا کا روپ ہے ہر ایک کی اپنی شخصیت خوبیاں اور جوہر ہیں مقابلہ نہ اپنی زات کا دوسروں کے ساتھ مناسب عمل ہے نہ دو لوگوں کے درمیان ۔ہر انسان
کا بس اتنا کام ہے کہ وہ اپنا کام کیے جاۓ بغیر لالچ اور خوف کے بغیر تحسین اور انعام کے اگر ہر شخص یہ طرز فکر اپنا لے تو سارا معاشرہ سنور جاۓ اس سلسلے میں سب سے پہلے خود کو سنوارو معاشرہ نکھارو والا فارمولہ اپنانا پڑے گا۔انسان بھی پھولوں کے گلدستے جیسے ہوتے ہیں۔موتیے سے گلاب کا مقابلہ خرابی کا باعث ہے۔گلشن آباد رہے۔

فیس بک تبصرے